قومی زبان

سوتے جاگتے درد

شام کی گود سے درد لے لے کے انگڑائی اٹھنے لگا نیستی ہے کسک دل میں جاگی تڑپ ذہن کے دشت میں یاد کے کارواں چل پڑے رات ہے مہرباں تھال دیپک کے سر پہ اٹھائے ہوئے چہرہ کالی ردا سے چھپائے ہوئے ساتھ میں چل پڑی صبح سورج کی پہلی رو پہلی کرن شب کے چہرے سے چادر ہٹائے گی جب نور اپنا وہ دن پر لٹائے ...

مزید پڑھیے

واپسی

نرم ریت پر معصوم بچوں کی طرح دوڑتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا اور شرارت سے مسکرایا آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور سمندر میں کھینچ لیا میں شرمائی عمر نے سہ پہر کا لبادہ اتار دیا سنجیدگی پانی میں اتر کر شوخ ہو گئی اس روز گوا کے ساحل پر ہماری میری اور ...

مزید پڑھیے

چلے آنا

یہ سچ ہے تم جہاں ہو وہ جگہ جنت کی مانند ہے وہاں کے نقرئی دن میں دوالی جیسی راتیں ہیں سنہری زندگی کا لمحہ لمحہ جگمگاتا ہے مگر شاید کسی پل کے کسی ننھے سے لمحے میں اگر چھو کر گزر جائے تمہیں ممتا کا اک جھونکا اگر ماں کی محبت اشک بن کر آنکھ چھلکائے گزشتہ ساتھ گزری ساعتوں کی یاد آ ...

مزید پڑھیے

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارہ ...

مزید پڑھیے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے مرض یہ کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ...

مزید پڑھیے

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارا ...

مزید پڑھیے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے یہ کیا مرض ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ...

مزید پڑھیے

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں حوصلہ بن کر چراغوں میں اتر جاتا ہوں میں نیند کی آغوش میں تھک کر گروں میں جب کبھی خواب جی اٹھتے ہیں میرے اور مر جاتا ہوں میں گھر مکینوں سے بنا کرتا ہے پتھر سے نہیں بس اسی امید پر ہر روز گھر جاتا ہوں میں میں نے تجھ سے کیا کبھی پوچھا کدھر ...

مزید پڑھیے

انتظار

کبھی تم ہنس پڑو کبھی میں ہنس رہوں کہ ہم سب ایک ہی ڈالی پہ اپنے اپنے لمحے میں مہکنے اور مرجھانے کی خاطر پھول ہیں جدھر آ جائے موج روح پرور پتیاں چمکیں فضا مہکے مگر کب آئے کس جانب یہ گہرا راز ہے شاید کبھی چلتے ہوے دھارے میں کوئی سبزہ اگ آئے کوئی آواز خاموشی میں اپنے پر ہلائے مگر ...

مزید پڑھیے

موت کا انتظار سفید چاک سے

موت کا انتظار سفید چاک سے آسمان کے سیاہ ماتھے پر دو نام ایک اللہ کا ایک رسول کا پھر سفید چاک دونوں ہونٹوں کے درمیان اس کا دودھ شیر اور شہد ملا بائیں جانب مڑ کر ایک دیوار پر کارل مارکس کا نام اس پر اگی ہوئیں خوفناک زبانیں اور اس کے اطراف کھلے ہو بجلی کے تار سانپ لپلپاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4932 سے 6203