نظم
دہکتی راتوں کی چاندنی میں ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ بہکتی سانسوں کی کپکپاہٹ جوان بانہوں کے گرم ہالے سکوت شب کو بڑھا رہے ہیں پگھل رہی ہے یہ برف ساعت
دہکتی راتوں کی چاندنی میں ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ بہکتی سانسوں کی کپکپاہٹ جوان بانہوں کے گرم ہالے سکوت شب کو بڑھا رہے ہیں پگھل رہی ہے یہ برف ساعت
بچپن کے ہیں خواب سہانے تتلی پھول اور میں کہاں سے لائیں اب وہ زمانے تتلی پھول اور میں نفرت سے ہے نفرت ہم کو پریت ہماری ریت پیار کے ہیں انمول خزانے تتلی پھول اور میں درد رتوں کی خوشبو سانجھی ایک ہی جیسا روگ ڈھونڈ رہے ہیں ساتھ پرانے تتلی پھول اور میں جیون راہ میں کون کہاں پر ...
آپ بھی اس حسن کو اب پھول کہئے دیکھیے نازک بدن سب پھول کہئے لگتی ہے قوس قزح عارض پہ شبنم برگ گل جیسے ہیں وہ لب پھول کہئے پھول سے ہی ہوتی ہے تمثیل اس کی رشک کرتا ہے چمن جب پھول کہئے بات میری آپ اب بھی جو نہ مانے تتلی جب چومے اسے تب پھول کہئے رات رانی بن وہ آئے خواب میں پھر مہکی ان ...
یہ دولت رتبہ شہرت اور یہ ایمان مٹی ہے لگایا ہاتھ تب جانا فلک بے جان مٹی ہے لگی جب آگ پتوں میں شجر تب رو پڑا غم میں کہا پھر شاخ نے ہر شے یہاں نادان مٹی ہے لکھوں میں فلسفے کی شاعری یا گیت الفت کے میں شاعر ہوں مری ہر نظم کا عنوان مٹی ہے کتاب ہجر میں میں اب لکھوں گا وصل کے قصے محبت ...
پاؤں کے چھالوں کی قیمت جانتا ہے بوڑھا پیڑ اک مسافر کی مصیبت جانتا ہے بوڑھا پیڑ بوجھ لاشوں کا اٹھانا ہے اسے تو اور ابھی جو کسانوں کی ہے حالت جانتا ہے بوڑھا پیڑ گر جڑیں مضبوط ہو تو آندھیوں کا خوف کیا رکھنی ہے مٹی سے نسبت جانتا ہے بوڑھا پیڑ وہ بدلتے موسموں سے بھی کبھی ہارا ...
نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا شدید حبس تھا کم کم ہوا نے رقص کیا بس ایک میں ہی وہاں پر طواف میں تو نہ تھا درون شہر مکرم ہوا نے رقص کیا چراغ قتل ہوا تو خوشی سے مقتل میں لگا کے نعرۂ رقصم ہوا نے رقص کیا تمام دن کی تمازت کے بعد رات گئے گری جو پھول پہ شبنم ہوا نے رقص کیا سمندروں ...
زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے پھر اس کے بعد دریدہ فلک سیا جائے ہمارا عکس اگر درمیاں نہ حائل ہو تو آئنے کو گلے سے لگا لیا جائے یہ زندگی تو پرانی شراب جیسی ہے یہ کڑوا گھونٹ ہے لیکن اسے پیا جائے جو رفتگاں ہیں انہیں لوٹ کر نہیں آنا اب انتظار کا بستر اٹھا دیا جائے تمہاری یاد نے ...
خدا سے مشورہ مانگا ہے تیرے بارے میں کوئی اشارہ تو اب ہوگا استخارے میں یہ میری سانس جو چاہے خرید سکتا ہے میں بھر کے بیچ رہا ہوں اسے غبارے میں جو بات بات پہ دیوار رونے لگتی ہے کسی کا خون ملایا ہے تو نے گارے میں وہ اک چراغ جو آیا ہے میرے حصے میں وہ جل رہا ہے کسی دوسرے ستارے میں پتا ...
کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی بغیر جسم بنائی گئی ہے خاموشی تضاد یہ ہے بنا کر کھنکتی مٹی سے مرے لہو میں ملائی گئی ہے خاموشی بلا کا شور انڈیلا گیا ہے کانوں میں مگر زباں کو سکھائی گئی ہے خاموشی زمیں پہ اس کا گزارا نہیں تھا اس باعث خلا کے بیچ بسائی گئی ہے خاموشی کچھ اس لیے بھی ...
نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے کہ رت خزاں کی بھی لگنے لگے بہار مجھے فصیل عشق پہ رکھا ہوا چراغ ہوں میں ہوائے ہجر کا رہتا ہے انتظار مجھے جدائیاں ہیں مقدر تو پھر گلے کیسے لکھے ہوئے پہ تجھے ہے نا اختیار مجھے فقط زباں سے نا کہہ مجھ کو زندگی اپنی میں زندگی ہوں تو اچھی طرح گزار ...