کیف غم لطف الم یاد آیا
کیف غم لطف الم یاد آیا کس کا انداز کرم یاد آیا جادۂ زیست کے ہر موڑ پہ کیوں کاکل یار کا خم یاد آیا کر گیا غرق ندامت دل کو جب تری آنکھ کا نم یاد آیا نہ گیا پھر ترے آنے کا خیال تیرا جانا بھی نہ کم یاد آیا پایا ظلمت سے تجلی کا شعور دیر میں جا کے حرم یاد آیا کھل گیا وسعت داماں کا ...