قومی زبان

تیرے خیال و خواب سے بے جا ہوں اب تلک

تیرے خیال و خواب سے بے جا ہوں اب تلک یعنی میں اپنی ذات سے بچھڑا ہوں اب تلک گر ہوں تجھے نصیب تو مجھ کو نہ یوں گنوا کتنوں کے واسطے میں تمنا ہوں اب تلک مجھ سے الگ ہوا وہ اجالوں میں کھو گیا میں تیرگی کی ضبط میں بیٹھا ہوں اب تلک اب تو تمام زخم بھی نابود ہو گئے حد عذاب ہے کہ میں زندہ ...

مزید پڑھیے

قدموں کے اپنے زور دکھاتے ہوئے چلو

قدموں کے اپنے زور دکھاتے ہوئے چلو جب بھی چلو تو پاؤں بجاتے ہوئے چلو ہر چھوٹتے مقام کو تیری کمی کھلے ہر دل میں اک مقام بناتے ہوئے چلو دنیا چلی ہے رات سے پھر صبح کی طرف زلف سیاہ رنگ لٹاتے ہوئے چلو تیرے بنا تو بے کسی بھی بے کسی نہیں ممکن ہو گرچہ یاد میں آتے ہوئے چلو گو عشق ہے تو ...

مزید پڑھیے

اس کی یادوں پہ صدقے ہر بات بکھرتی جاتی ہے

اس کی یادوں پہ صدقے ہر بات بکھرتی جاتی ہے ذکر کئے جاتا ہوں اس کا رات گزرتی جاتی ہے واقف ہے ہر پھول چمن کا اس کے بدن کی خوشبو سے چھو کر اس کو باد صبا بھی آہیں بھرتی جاتی ہے کھو جاتے ہیں چاند ستارے اس کی حسن پرستی میں جیوں جیوں گہری ہوتی ہے شب اور نکھرتی جاتی ہے خواب ادھورے ماتم ...

مزید پڑھیے

ایک مخصوص دائرہ رکھنا

ایک مخصوص دائرہ رکھنا قربتوں میں بھی فاصلہ رکھنا دوست تو دوست دشمنوں سے بھی ملنے جلنے کا سلسلہ رکھنا سخت سے سخت مشکلوں میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنا عکس چہرہ دکھائی دیتا ہے اپنے ہاتھوں میں آئینہ رکھنا رنج ہو یا خوشی کا موقع ہو بات میں بات کا مزہ رکھنا اب تو عادت سی ہو ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کس سے کہیں رنجش و آفات کا غم

کیا کہیں کس سے کہیں رنجش و آفات کا غم اب سہا جاتا نہیں گردش حالات کا غم ہر گھڑی شعلے برستے تھے بدن پر میرے کیسے میں بھولتا گزرے ہوئے لمحات کا غم خواب بھی ٹوٹ گئے دل بھی مرا ٹوٹ گیا عمر بھر مجھ کو رہا ان سے ملاقات کا غم میں خوشی پہلی سی اے دوست کہاں سے لاؤں اب تو ہر وقت مرے پیچھے ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

سرخ گلاب چمکتے ہیرے جگمگ کرتے موتی شہد میں ڈوبے ادھورے جملے منظر پھولوں پر منڈلاتی بے کل تتلی روئی جیسی نرم ملائم مٹی میں روٹی کے ٹکڑے چھت پر بیٹھے کوے چڑیاں مٹھی کھلے روٹی کے ٹکڑے فرش پر بکھریں کوا چڑیاں شور مچاتے لپکیں جھپٹیں موتی اپنا روپ دکھائیں ہیرے اور چمکتے جائیں

مزید پڑھیے

جس کو چاہا تھا کب ملا مجھ کو

جس کو چاہا تھا کب ملا مجھ کو زندگی سے ہے یہ گلہ مجھ کو درد یادیں اور اک شکستہ دل عاشقی کا ہے یہ صلہ مجھ کو اور کسی سے بھی ربط رکھنے کا راس آیا نہ سلسلہ مجھ کو اب تو آنکھوں سے جی نہیں بھرتا اب کے ہونٹوں سے ہی پلا مجھ کو میری قسمت میں قرب کا لمحہ گر لکھا ہے تو پھر دلا مجھ کو اس کی ...

مزید پڑھیے

داغ دل زخم جگر یاد آیہ (ردیف .. ا)

داغ دل زخم جگر یاد آیہ جب وہ محبوب نظر یاد آیا یک بہ یک بجھ گئے آنکھوں کے دیے کون یہ رشک قمر یاد آیا لگ سکی آنکھ نہ پھر تا بہ سحر جب وہ خوابوں کا نگر یاد آیہ نظر آتے ہی نشان منزل دفعتاً رخت سفر یاد آیا شدت شوق حضوری میں مجھے سجدہ یاد آیا نہ سر یاد آیا مرکز فکر تھا اک مہر ...

مزید پڑھیے

فاصلے ہیں صدیوں کے اور زندگی تنہا

فاصلے ہیں صدیوں کے اور زندگی تنہا درد سر دو عالم کا ایک آدمی تنہا شعلۂ حوادث نے حوصلہ دیا ورنہ بجھ کے رہ گئی ہوتی شمع زندگی تنہا زندگی میں آمیزش ان کی رنگ بھرتی ہے دوستی ہی کام آئے اور نہ دشمنی تنہا پوچھتا ہے کب کوئی حال ان چراغوں کا روشنی دکھاتے ہیں جو گلی گلی تنہا تھی نفس ...

مزید پڑھیے

کم کسی کشتۂ آلام کی پرسش کی ہے

کم کسی کشتۂ آلام کی پرسش کی ہے ورنہ دنیا نے تو خود اپنی پرستش کی ہے ہم ہی کم فہم تھے سمجھے ستم ایجاد تمہیں تم نے تو ہم پہ عنایات کی بارش کی ہے سچ تو یہ ہے کہ برابر کے ہیں مجرم دونوں آپ کی نظروں نے دل سے مرے سازش کی ہے زندگی قرض سمجھ کر میں جئے جاتا ہوں اب تمنا نہ صلے کی نہ ستائش کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4854 سے 6203