قومی زبان

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا تجھ سے کہنے کی کوئی بات نہ کرنا تجھ سے کنج تنہائی میں بس خود کو علامت کرنا اک بگولے کی طرح ڈھونڈتے پھرنا تجھ کو روبرو ہو تو نہ شکوہ نہ شکایت کرنا ہم گدایان وفا جانتے ہیں اے در حسن عمر بھر کار ندامت پہ ندامت ...

مزید پڑھیے

برگ گل شاخ ہجر کا کر دے

برگ گل شاخ ہجر کا کر دے اے خدا اب مجھے ہرا کر دے ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے میرا لہجہ بہار سا کر دے مجھ کو روشن مرے بیان میں کر خامشی کو بھی آئنا کر دے بیٹھ جاؤں نہ تھک کے مثل غبار دشت میں صورت صبا کر دے میری تکمیل حرف و صوت میں ہو مجھے پابند التجا کر دے کون دستک پہ کان دھرتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

ہوا کے رخ پہ رہ اعتبار میں رکھا

ہوا کے رخ پہ رہ اعتبار میں رکھا بس اک چراغ کوئے انتظار میں رکھا عجب طلسم تغافل تھا جس نے دیر تلک مری انا کو بھی کنج خمار میں رکھا اڑا دیے خس و خاشاک آرزو سر راہ بس ایک دل کو ترے اختیار میں رکھا نہ جانے کون گھڑی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کے شیشۂ جاں اس غبار میں رکھا یہ کس نے ...

مزید پڑھیے

عشاق بہت ہیں ترے بیمار بہت ہیں

عشاق بہت ہیں ترے بیمار بہت ہیں تجھ حسن دل آرام کے حق دار بہت ہیں اے سنگ صفت آ کے سر بام ذرا دیکھ اک ہم ہی نہیں تیرے طلب گار بہت ہیں بے چین کئے رکھتی ہے ہر آن یہ دل کو کم بخت محبت کے بھی آزار بہت ہیں مٹی کے کھلونے ہیں ترے ہاتھ میں ہم لوگ اور گر کے بکھر جانے کے آثار بہت ہیں لکھیں تو ...

مزید پڑھیے

کن آوازوں کا سناٹا مجھ میں ہے

کن آوازوں کا سناٹا مجھ میں ہے جو کچھ بھی تجھ میں ہے یا مجھ میں ہے تیری آنکھیں میری آنکھیں لگتی ہیں سوچ رہا ہوں کون یہ تجھ سا مجھ میں ہے ہر موسم نے تیرے در پر دستک دی آخری دستک دینے والا مجھ میں ہے دل کی مٹی لہو بنا کر چھوڑے گا یہ جو کانچ کا چلتا ٹکڑا مجھ میں ہے جس دریا کا ایک ...

مزید پڑھیے

اک تم کہ ہو بے خبر سدا کے

اک تم کہ ہو بے خبر سدا کے موسم ہے کہ ہاتھ مل رہا ہے ظاہر میں صبا خرام خوشبو باطن میں نفاق پل رہا ہے اے لذت ہجر یاد رکھنا یہ لمحۂ وصل کھل رہا ہے آئینے میں عکس ڈھل رہا ہے پانی میں چراغ جل رہا ہے آنکھوں میں غبار منزلوں کا قدموں میں سراب چل رہا ہے جیسے کوئی یاد آ رہا ہو آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

چراغ قرب کی لو سے پگھل گیا وہ بھی

چراغ قرب کی لو سے پگھل گیا وہ بھی عذاب ہجر سے میں کیا، نکل گیا وہ بھی ردائے ابر جمال حجاب کیا سرکی کہ انگ انگ ستاروں میں ڈھل گیا وہ بھی دیار خواب میں اک شخص ہم قدم تھا مگر پڑا جو وقت تو رستہ بدل گیا وہ بھی یہ اس کی یاد کا اعجاز تھا کہ اب کے برس جو وقت ہم پہ کڑا تھا سو ٹل گیا وہ ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات نوحے گا رہی ہے

اندھیری رات نوحے گا رہی ہے خموشی شہر بھر میں چھا رہی ہے زمیں پر خون اتنا بہہ گیا ہے ہواؤں میں بھی خوشبو آ رہی ہے ہری وادی کا افسوں ٹوٹتا ہے خزاں کچھ رنگ وہ دکھلا رہی ہے کئی لاشوں کی فصلیں کٹ چکی ہیں کہ دھرتی خون میں نہلا رہی ہے گھروں میں شور بھی اب تھم گیا ہے گلی سے فوج بھی اب ...

مزید پڑھیے

چڑھتا دریا اتر گیا میں بھی

چڑھتا دریا اتر گیا میں بھی سر سے پانی گزر گیا میں بھی رات کی تو فصیل اونچی تھی پار کیسے اتر گیا میں بھی اس میں تو بھی تو ٹوٹ پھوٹ گیا ریزہ ریزہ بکھر گیا میں بھی پانچ بجتے ہی لوٹ آتا ہوں اب کے شاید سدھر گیا میں بھی اس چوراہے پہ بھیڑ اتنی تھی تو نہ آیا تو گھر گیا میں بھی تو نے ...

مزید پڑھیے

مری ماں نے مجھ کو جنم جب دیا تھا

مری ماں نے مجھ کو جنم جب دیا تھا میں لاشوں کے انبار پر جا گرا تھا جہاں پر تمہاری ردا چھن گئی تھی وہیں پر ہمارا بھی بازو کٹا تھا یہیں پر اسے جان دینے کی ضد تھی یہیں سے وہ پرچم اٹھائے چلا تھا مجھے سات چہروں کی صورت ملی تھی تذبذب میں ہر اک مجھے دیکھتا تھا میں لوگوں کی اس بھیڑ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4813 سے 6203