قومی زبان

رائیگاں جاتا ہے کب الفت میں دیوانوں کا خوں

رائیگاں جاتا ہے کب الفت میں دیوانوں کا خوں رنگ لاتا ہے کسی دن ان کے ارمانوں کا خوں حسن گل پر اس قدر مائل نہ ہو اے عندلیب ہو کے رہ جائے گا اک دن تیرے ارمانوں کا خوں خاک بلبل نے سنوارا غازہ بھی کر حسن گل اور نور شمع میں چمکا ہے پروانوں کا خوں آشیانے میں قفس کا ذکر تھا سوہان روح اب ...

مزید پڑھیے

اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں

اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں خوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میں ہزار عیش سہی زندگی کے دامن میں مگر ہے صبر کہاں آدمی کے دامن میں اگر سکوں ہے تو ہے بندگی کے دامن میں ملے گی منزل عرفاں اسی کے دامن میں کسی کی یاد میں آنسو جو آنکھ سے ٹپکے جواہرات ہیں یہ عاشقی کے دامن ...

مزید پڑھیے

جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتی

جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتی جلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتی وہ سجدہ سجدہ نہیں جس میں ہوش باقی ہو بہ قید ہوش جو ہو بندگی نہیں ہوتی قبائے حسن کی تابش اگر ہو آنکھوں میں بشر کے دل میں کبھی تیرگی نہیں ہوتی قدم قدم پہ جو کھائے فریب ہستی کا اس آدمی کی کوئی زندگی نہیں ہوتی رموز ...

مزید پڑھیے

روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ

روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ اور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھ دور بڑھتا ہی گیا حسرت ناکام کے ساتھ دل میں اک ٹیس اٹھی آپ کے ہنگام کے ساتھ آپ نے پرسش غم کا بھی تکلف نہ کیا دل میں ہم جلتے رہے حسرت ناکام کے ساتھ جانے کیوں آج مرے عشق کی تشہیر ہوئی ہر زباں پر ہے مرا نام تیرے ...

مزید پڑھیے

پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں

پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں مٹھی بھر احساس لیے پھرتا ہوں چاروں اور سمندر اور میں پل پل ایک انجانی پیاس لیے پھرتا ہوں رام کو تو بن باس لیے پھرتا تھا میں خود میں بن باس لیے پھرتا ہوں محفل محفل خیمہ زن مایوسی منزل منزل آس لیے پھرتا ہوں ہر موسم کا کرب چھپا ہے مجھ میں میں ہر رت ...

مزید پڑھیے

پہلے تو کبھی وقت یہ ہم پر نہیں آیا

پہلے تو کبھی وقت یہ ہم پر نہیں آیا ہم چلتے رہے چلتے رہے گھر نہیں آیا سورج کی ہے بے خبری کہ موسم کی شرارت کیوں سایہ مرے قد کے برابر نہیں آیا کیا لوگ تھے بستی میں کہ جلتی رہی بستی اور گھر سے نکل کر کوئی باہر نہیں آیا کیوں ولولے محدود ہوئے لفظ و بیاں تک کیوں دار تلک کوئی قد آور نہیں ...

مزید پڑھیے

خوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گی

خوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گی سورج نہ دیکھ آنکھ کی بینائی جائے گی یا رب کوئی فرشتہ جسے دوست کہہ سکوں انسان کی تلاش میں بینائی جائے گی دو چار جھوٹ بول کے آئی بلا کو ٹال سچ بولنے کے جرم میں گویائی جائے گی نسلی رقابتوں میں گئے اپنے بام و در اب آپسی نفاق میں انگنائی جائے ...

مزید پڑھیے

سوز جنوں نے وقت سے ڈرنے نہیں دیا

سوز جنوں نے وقت سے ڈرنے نہیں دیا آسان راستوں سے گزرنے نہیں دیا ساحل پہ جا اترنا تو لمحوں کی بات تھی ایک بے دلی تھی جس نے ابھرنے نہیں دیا گھیرا کچھ اس طرح سے غم روزگار نے خود اپنے آپ میں بھی اترنے نہیں دیا اونچی حویلیوں نے بھی کیا ظلم ڈھائے ہیں سورج بھی آنگنوں میں اترنے نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دے

وہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دے وہ شور ہے کہ خود اپنی صدا سنائی نہ دے میں کیا کروں گا بھلا جا کے اس بلندی پر جہاں سے میرا ہی سایہ مجھے دکھائی نہ دے جو مجھ کو درد کے اندھے کنویں میں پھینک آئے مرے وجود کو وہ کرب آشنائی نہ دے نہ جانے کون ہے مجھ میں جو ہر گھڑی مجھ کو کوئی سجھاؤ سا ...

مزید پڑھیے

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر یاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پر جاں ہماری بچ گئی ہے موسموں کے خوف سے جاتی رت کے ہم مسافر گھر ہمارا ریت پر ساحل ارماں سے اٹھی جب بھی موج بے اماں بیٹھ کر میں دیکھتی ہوں یہ نظارہ ریت پر تو الجھ کے رہ گیا ہے بندھنوں کے جال میں آنسوؤں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4710 سے 6203