قومی زبان

کعبۂ دل میں رونما ہیں آپ

کعبۂ دل میں رونما ہیں آپ بخدا بت نہیں خدا ہیں آپ نہ خفا مجھ سے ہو تو ہے یہ عرض کہ بھلا مجھ سے کیوں خفا ہیں آپ مانگتے ہیں خدا سے آپ کو سب میری دانست میں دعا ہیں آپ کس مسیحا کے درد الفت میں میاں بیصبرؔ مبتلا ہیں آپ

مزید پڑھیے

بہار آئے عنادل نے مل خروش کیا

بہار آئے عنادل نے مل خروش کیا بدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیا زہے زہے میرے ایمان و دیں کہ میں نے انہیں فدائے فرق خم و پائے مے فروش کیا نقاب منہ سے اٹھا کر یہ کس نے دی آواز کہ دفعتاً ہمہ تن مجھ کو چشم و گوش کیا نکل گیا تھا لہو میرے تن کا رونے میں رہا تھا جو کوئی قطرہ سو غم نے ...

مزید پڑھیے

انتہا ضعف کی ہے صاف نمایاں مجھ سے

انتہا ضعف کی ہے صاف نمایاں مجھ سے رمق جاں میں مرا جسم ہے پنہاں مجھ سے شور ہے وہ نہ وہاں اور نہ یہاں وہ سنسان شہر ویران ہے آباد بیاباں مجھ سے بسکہ مشکل کو سمجھ رکھا ہے میں نے آسان مشکلیں کرتے ہیں حل اپنے خود آساں مجھ سے دامن‌ دشت ہے اور پھر مرا پائے وحشت پھر ہوا جوش جنوں دست و ...

مزید پڑھیے

یا ستم کر یا کرم چاہے سو کر

یا ستم کر یا کرم چاہے سو کر چاہتے ہیں تجھ کو ہم چاہے سو کر مار چاہے چھوڑ مجھ کو جیتے جی میں نہ چھوڑوں گا قدم چاہے سو کر بزم میں محروم مت رکھ دے مجھے جام مے یا جام سم چاہے سو کر کفر یا اسلام کچھ کر اختیار ایک ہے دیر و حرم چاہے سو کر مار کھاؤں گا پر آنے کی یہاں میں نہ کھاؤں گا قسم ...

مزید پڑھیے

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا جاں بلب ہونے لگا ہے پیاس کی شدت سے وہ خشک ریگستان میں اک شخص جو دریا سا تھا گھر گیا ہے اب تو شعلوں میں مرا ...

مزید پڑھیے

خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگ

خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگ بات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگ بند کمروں سے ابھی نکلے ہیں لوگ اور ہی انداز سے ملتے ہیں لوگ جس کو دیکھو ہے وہی جھلسا ہوا کس دہکتی آگ سے نکلے ہیں لوگ کون کسی کی فکر کرتا ہے یہاں اپنے اپنے جال میں الجھے ہیں لوگ روشنی کی کیوں نہیں کرتے تلاش کیوں ...

مزید پڑھیے

ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتے

ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتے کاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتے دل کے وہ داغ جو سینے میں چھپا رکھے ہیں اے مسیحا وہ کبھی تو نے بھی دیکھے ہوتے ہم سمجھ ہی نہ سکے تیری نظر کا مفہوم ورنہ یوں بت سے بنے راہ میں بیٹھے ہوتے غم دوراں کی کڑی دھوپ یہ تپتا صحرا کاش دو گام تری زلف کے سائے ...

مزید پڑھیے

تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیں

تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیں یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں گناہوں میں سما جائیں کلیجے میں اتر جائیں مری دنیائے ہستی میں ترے جلوے بکھر جائیں نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے ترے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں ترے رندوں میں اے ساقی بھلا اتنی ...

مزید پڑھیے

جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہے

جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہے الفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہے ساقی تری آنکھوں میں ہیں دو جام چھلکتے مے خانے کی مستی تری آنکھوں میں بھری ہے فن کار نے جب اپنا قلم غم میں ڈبویا تب جا کے ترے حسن کی تصویر بنی ہے جب چاہا تجھے دیکھ لیا جان تمنا غم خانۂ دل میں تری تصویر جڑی ہے کیوں ...

مزید پڑھیے

گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میں

گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میں فریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میں کسی کے حسن کی تصویر کھینچ کر دل میں تصورات کی محفل سجا رہا ہوں میں مجھے طلب ہی نہیں ہے کسی مسرت کی خوشی سمجھ کے ترا غم اٹھا رہا ہوں میں گلوں کی بزم سے مجھ کو نہ تھی کوئی رغبت تمہارا نقش قدم ڈھونڈھتا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4709 سے 6203