قومی زبان

آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا

آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا اس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگا میں نہ کہتی تھی اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں آپ نے دیکھا مرا ویران گھر کیسا لگا میں نے اک بت کو تراشا ہے زمانے کے لئے اے ہنر مندو مرا کار ہنر کیسا لگا ظلمتوں کے ساتھ تو تم نے نبھایا عمر بھر شب گزیدہ لوگو انداز سحر ...

مزید پڑھیے

تم کو میں جب سلام کرتا ہوں

تم کو میں جب سلام کرتا ہوں تب فغاں گام گام کرتا ہوں غنچہ و گل کی خستہ حالی کا ذکر میں صبح و شام کرتا ہوں بے ستوں کاٹ کر کھڑا ہوں میں کوہ کن جیسے کام کرتا ہوں آتش عشق جب جلاتی ہے جل کے میں نوش جام کرتا ہوں شعر ہوتا نہیں ہے جب بابرؔ اس کا کچھ اہتمام کرتا ہوں

مزید پڑھیے

مان لو صاحبو کہا میرا

مان لو صاحبو کہا میرا کیوں کہ عبرت ہے نقش پا میرا ہے تمنا میں غارت و رسوا شعر میرا، کتابچہ میرا اے پری زاد تیرے جانے پر ہو گیا خود سے رابطہ میرا جنگلوں سے مجھے یہ نسبت ہے ان میں رہتا تھا آشنا میرا عام سا آدمی ہوں میں صاحب شعر ہوتا ہے عام سا میرا

مزید پڑھیے

نہیں نہیں یہ مرا عکس ہو نہیں سکتا

نہیں نہیں یہ مرا عکس ہو نہیں سکتا کسی کے سامنے میں یوں تو رو نہیں سکتا تھکن سے چور ہے سارا وجود اب میرا میں بوجھ اتنے غموں کا تو ڈھو نہیں سکتا تجھے غزل تو سناتا ہوں آج بابرؔ کی مگر میں اشکوں سے دامن بھگو نہیں سکتا

مزید پڑھیے

کسی کے جال میں آ کر میں اپنا دل گنوا بیٹھا

کسی کے جال میں آ کر میں اپنا دل گنوا بیٹھا مجھے تھا عشق قاتل سے میں اپنا سر کٹا بیٹھا غضب کا سنگ دل آغاز سے ہی بے مروت تھا کہ جس سے دور رہنا تھا میں اس کے پاس جا بیٹھا مرا معبود تو عشق بتاں سے لاکھ افضل تھا مجھے کس سے لگانا تھا میں دل کس سے لگا بیٹھا

مزید پڑھیے

داستان غم تجھے بتلائیں کیا

داستان غم تجھے بتلائیں کیا زخم سینے کے تجھے دکھلائیں کیا سوچتے ہیں بھول جائیں سرزنش مدتوں کی بات اب جتلائیں کیا لوگ اس کی بات تو سنتے نہیں خضر کو جنگل سے ہم بلوائیں کیا روز تم وعدہ نیا لے لیتے ہو پاس ان وعدوں کا ہم رکھ پائیں کیا مفلسی نے جا بجا لوٹا ہمیں اب بچا کچھ بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا

دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا ہم کو بیچا مگر نہ دام لیا دل سے آخر چراغ وصل بجھا کیا تمنا نے انتقام لیا پھر کبھی وہ نہ آئی ہم کو نظر جس پری رو کا ہم نے نام لیا تیری خاطر ہنوز ہم نے یہاں لاکھ الزام اپنے نام لیا تا دم مرگ عشق جیتا رہا گور میں بھی مرا سلام لیا

مزید پڑھیے

یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا

یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا جسم کا ایک بگڑتا ہوا خاکہ دیکھا اپنی صورت بھی نہ پہچان سکی آنکھ مری مدتوں بعد جو میں نے کبھی شیشہ دیکھا شہر پر ہول میں اب کے یہ عجب منظر تھا سنگ کشادہ تھا مگر سنگ کو بستہ دیکھا میں بھی گم صم تھا کوئی بات نہ کرنے پایا اس کے ہونٹوں پہ بھی جیسے ...

مزید پڑھیے

شہر بدلا ہوا سا لگتا ہے

شہر بدلا ہوا سا لگتا ہے ہر کوئی اوپرا سا لگتا ہے مجھ کو اکثر خود اپنے اندر ہی کچھ بھٹکتا ہوا سا لگتا ہے جانے کیا بات ہے کہ گھر مجھ کو روز گرتا ہوا سا لگتا ہے مجھ کو ہر شخص اپنی بستی کا خود سے روٹھا ہوا سا لگتا ہے درد سے یوں نجات کب ہوگی وقت ٹھہرا ہوا سا لگتا ہے زخم کھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کوئی منزل بھی نہیں ہے کوئی رستہ بھی نہیں

کوئی منزل بھی نہیں ہے کوئی رستہ بھی نہیں اور سب محو سفر ہیں کوئی رکتا بھی نہیں ہر طرف بے رنگ سی گہری اداسی کا جماؤ ایک رنگیں خواب جو نظروں سے ہٹتا بھی نہیں کس طرح تھامے ہوئے ہیں خود کو اس بستی کے لوگ کوئی متوازن نہیں ہے اور پھسلتا بھی نہیں اک مسلسل سی یہ سعئ رائیگاں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4711 سے 6203