صفحۂ قرطاس پر خوش رنگ تحریریں نہیں
صفحۂ قرطاس پر خوش رنگ تحریریں نہیں اپنے قبضے میں ابھی لفظوں کی جاگیریں نہیں زندگی ہم نے گزاری ایک بیوہ کی طرح خواب وہ دیکھے کہ جن کی کوئی تعبیریں نہیں جی رہے ہیں شہر میں سب لوگ اندیشوں کے ساتھ اک ترے ہی پاؤں میں سوچوں کی زنجیریں نہیں اور اچھلیں گے ادب کے مسخروں کے سر یہاں زنگ ...