قومی زبان

ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیدا

ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیدا ہر اک آئینے سے ہے صورت آئینہ گر پیدا زمانہ بند کر دیتا ہے جس پر اک در عشرت تو اس کے واسطے کرتی ہے فطرت لاکھ در پیدا گداؤں کی نظر میں خاک ہے توقیر سلطانی فسون عشق کر دیتا ہے ذروں میں نظر پیدا نہیں کچھ دور یہ بھی سورما قوموں کی فطرت سے شکستیں ...

مزید پڑھیے

بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کر

بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کر کہ گل مرجھا کے رہ جاتا ہے خاروں سے جدا ہو کر کہاں جانا تھا مجھ کو اور کہاں لا کر کیا رسوا نگاہ شوق نے دھوکا دیا ہے رہنما ہو کر ستم کیجے جفا کیجے مگر انصاف سے کہیے یہ ناراضی بھلا زیبا ہے بندے سے خدا ہو کر بہاریں جا رہی تھیں جب خزاں کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس تھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاس عقل ہے اک آستیں کا سانپ فرزانوں کے پاس بے خودی کتنی بڑی دولت ہے دیوانوں کے پاس کس کی ہے دنیا یہ آخر صاحب خانہ ہے کون میزباں دیکھا نہیں کوئی بھی مہمانوں کے پاس عظمت دیوانگی کا شور فرزانوں میں ہے ہے ...

مزید پڑھیے

چٹکیاں لیتی ہے گویائی کسے آواز دوں

چٹکیاں لیتی ہے گویائی کسے آواز دوں کس کو ہے توفیق شنوائی کسے آواز دوں سر میں سودا ہے نہ دل میں آرزو کس سے کہوں جلوتیں مانگے ہے تنہائی کسے آواز دوں اپنی نظروں میں تو میرا زعم ہستی لغو ہے کس سے پوچھوں اپنی سچائی کسے آواز دوں بیچ دوں گا میں ضمیر اپنا اگر تسکیں ملے اے مسلسل روح ...

مزید پڑھیے

صدیوں کا کرب لمحوں کے دل میں بسا دیا

صدیوں کا کرب لمحوں کے دل میں بسا دیا پل بھر کی زندگی کو دوامی بنا دیا دیوار میں وہ چن ہی رہا تھا مجھے مگر کم بخت ایک سنگ کہیں مسکرا دیا جب اور کوئی مد مقابل نہیں رہا میری انا نے مجھ کو مجھی سے لڑا دیا مجھ سے نہ پوچھ کل کے محقق سے پوچھنا شعلوں کے لمس نے مجھے کیوں یخ بنا دیا یادوں ...

مزید پڑھیے

دل کے ہاتھوں خراب ہو جانا

دل کے ہاتھوں خراب ہو جانا زندگی کامیاب ہو جانا مجھ سے کب ایسے معجزے ہوں گے خود ہی عزت مآب ہو جانا آج گل بن لے زخم تنہائی پھر کبھی آفتاب ہو جانا میں نے تسکین کرب مانگی ہے اے دعا مستجاب ہو جانا جب کسی امتحاں سے خوف لگے تم مرے ہم رکاب ہو جانا خواب کو سچ میں ڈھالنے کی لگن دیکھیو ...

مزید پڑھیے

قدر

لاؤ تو بینت ذرا اس کی مرمت کر دوں غیر حاضر رہا کرتا ہے بہت دیوانا سن کے شاگرد نے استاد سے یہ عرض کیا قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

مزید پڑھیے

نامعقول

آج اک استاد نے جل کر کہا سب کے سب شاگرد نامعقول ہیں ایک کونے سے کسی نے دی صدا آپ ہی کے باغ کے ہم پھول ہیں

مزید پڑھیے

جواب

سوال جب بھی میں پوچھوں تو منہ کو تکتے ہو ہے بات شرم کی یوں اپنے ہونٹ سی لینا صدا اٹھی کہ بتایا ہے کل ہی حضرت نے بڑوں کی بات کا ہرگز جواب مت دینا

مزید پڑھیے

مشقت کا خزانہ مانگتا ہے

مشقت کا خزانہ مانگتا ہے مری محنت زمانہ مانگتا ہے ہر اک لمحہ دل آوارہ فطرت مسافت کا خزانہ مانگتا ہے مقدر سے جسے مانگا تھا میں نے اسے مجھ سے زمانہ مانگتا ہے عجب پاگل ہے میرے من کا پنچھی قفس میں آشیانہ مانگتا ہے ہمیں ہر آن آمادۂ ہجرت ہمارا آب و دانہ مانگتا ہے ستم یہ ہے کہ ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4695 سے 6203