ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیدا
ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیدا ہر اک آئینے سے ہے صورت آئینہ گر پیدا زمانہ بند کر دیتا ہے جس پر اک در عشرت تو اس کے واسطے کرتی ہے فطرت لاکھ در پیدا گداؤں کی نظر میں خاک ہے توقیر سلطانی فسون عشق کر دیتا ہے ذروں میں نظر پیدا نہیں کچھ دور یہ بھی سورما قوموں کی فطرت سے شکستیں ...