خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہے
خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہے جسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہے نہ جمال میں ہیں لطافتیں نہ لطافتوں میں ہے بے خودی یہ جنون عشق کا بھوت ہے جو بشر کے سر پہ سوار ہے مجھے بے نیاز الم نہ کر مجھے بے نصیب ستم نہ کر مرے غم کی لذت جاوداں مری زندگی کی بہار ہے یہ نہیں ...