قومی زبان

خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہے

خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہے جسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہے نہ جمال میں ہیں لطافتیں نہ لطافتوں میں ہے بے خودی یہ جنون عشق کا بھوت ہے جو بشر کے سر پہ سوار ہے مجھے بے نیاز الم نہ کر مجھے بے نصیب ستم نہ کر مرے غم کی لذت جاوداں مری زندگی کی بہار ہے یہ نہیں ...

مزید پڑھیے

فکر و خیال میں تمہیں لانے سے فائدہ

فکر و خیال میں تمہیں لانے سے فائدہ خود اپنے گھر میں آگ لگانے سے فائدہ بیٹھے بٹھائے جی کو جلانے سے فائدہ تعمیر زندگی کو مٹانے سے فائدہ فریاد و آہ نالہ و شیون فضول ہیں شب کی خموشیوں کو جگانے سے فائدہ پامال ہو چکے ہیں یہ انداز عاشقی یوں سر کسی کے در پہ جھکانے سے فائدہ اچھا نہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتا

کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتا یہ حد ہے تو بھی اب مد مقابل ہو نہیں سکتا ترا عہد محبت ٹوٹ کر عہد محبت ہے مگر دل ٹوٹ جاتا ہے تو پھر دل ہو نہیں سکتا محبت میں پرستش کا مقام اونچا سہی لیکن یہ غم انسان کی فطرت میں شامل ہو نہیں سکتا مرے عزم سفر میں یہ ترا حسن سکون افزا چراغ راہ بن ...

مزید پڑھیے

خود کو خودی کا آئنہ دکھلا رہا ہوں میں

خود کو خودی کا آئنہ دکھلا رہا ہوں میں اپنا حریف آپ بنا جا رہا ہوں میں قسمت کی پستیوں کی حدیں ختم ہو چکیں اب رفعتوں کی سمت اڑا جا رہا ہوں میں ناکام آرزو ہوں مگر اف یقین عشق دانستہ پھر فریب وفا کھا رہا ہوں مہر سکوت لب پہ ہے بہکے ہوئے قدم اے بے خودی پھر آج کدھر جا رہا ہوں میں پھر ...

مزید پڑھیے

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے جس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے عاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہے معشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے عالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابد مستی بلا کی بادۂ ''قالو بلیٰ'' میں ہے ایماں ہے عکس رخ تو ہے گیسو کا عکس کفر وہ کون چیز ہے جو تری ماسوا ...

مزید پڑھیے

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح آج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرح تیر مژہ ہو یار کا اور نشانہ دل مرا تیر پہ تیر تا بہ کے کیجے حذر کسی طرح نالہ ہو یا کہ آہ ہو شام ہو یا پگاہ ہو دل میں بتوں کے ہائے ہائے کیجے اثر کسی طرح آئی شب فراق ہے رات ہے سخت یہ بہت کیجے شمار اختراں تا ہو ...

مزید پڑھیے

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے کوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہے تیرے کوچے میں ہے قاتل رقص گاہ عاشقاں کوئی غلطاں سر بکف کوئی کفن میں مست ہے میکدے میں بادہ کش بت خانے میں ہیں بت پرست جو ہے عالم میں وہ اپنی انجمن میں مست ہے نکہت زلف صنم سے یاں معطر ہے دماغ کوئی مشک چیں ...

مزید پڑھیے

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط گیا سب درد سر کیا تھا دوا خط دیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھے ہوا تاثیر میں کیا کہربا خط وہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارا دیا قاصد نے جب جا کر مرا خط ہے لازم حال خیریت کا لکھنا کبھی تو بھیج او نا آشنا خط رہا ممنون کاغذ ساز کا میں سنا دے گا اسے سب ماجرا ...

مزید پڑھیے

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے حسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہے خوں ہے وہ جس سے کہ ہو دامن قاتل رنگیں خون فاسد ہے جو خالی سر مژگاں میں رہے ہم نے مصنوع سے صانع کی حقیقت پائی بے سبب ہم نہیں نظارۂ خوباں میں رہے صبح خورشید کو دیکھا ہوس عارض میں شام سے روشنیٔ شمع شبستاں میں ...

مزید پڑھیے

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا بھٹک رہے ہیں ابھی زیست کے سرابوں میں مسافروں کو شعور سفر نہیں آیا تمام رات ستارہ شناس روتے رہے نظر گنوا دی ستارہ نظر نہیں آیا ہزار منتیں کیں واسطے خدا کے دیے یہ راہ راست پہ وہ راہ بر نہیں آیا زبان شعر پہ مہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4697 سے 6203