قومی زبان

طوطا

تم نے کیا دیکھا ہے طوطا رنگ ہرا ہے پیارا پیارا مڑی ہوئی ہے چونچ سرے پر رنگت اس کی لال ہے خوشتر دم لمبی اور ہرے ہرے پر جاتا ہے ہر جا یہ اڑ کر پتلی سی ٹہنی کے اوپر بیٹھتا ہے یہ طوطا چڑھ کر جہاں بھی ہے یہ آتا جاتا عمدہ عمدہ میوے کھاتا اس میں ہیں گن پیارے سارے سب ہیں اس کے چاہنے ...

مزید پڑھیے

خدا کے نزدیک کوئی کمتر نہیں

بچو اک دن نبی ہمارے مع صحابہ سفر کو نکلے وقت پکانے کا جب آیا سبھوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا ذبح کسی نے کر لی بکری کسی نے فوراً کھال نکالی اک اک کام کیا ہر اک نے کام ہوئے یوں پورے سارے مگر رہا لکڑی کا لانا آپ نے چاہا جنگل جانا آپ کو ہر ساتھی نے روکا کسی کا لیکن کہا نہ مانا اور جنگل کو آپ ...

مزید پڑھیے

سوئی

چیز اگرچہ ہوں میں ننھی لیکن ہوں میں کام کی کیسی آقا کو بھی میری ضرورت نوکر کو بھی میری حاجت کوئی جہاں میں گھر نہیں ایسا جس میں کام نہیں ہے میرا حال سناتی ہوں میں اپنا کان لگا کر سارا سننا مٹی میں سے لوہا نکالا لوہے کا فولاد بنایا تار پھر اس فولاد کا کھینچا ہو گیا وہ تب دبلا پتلا کر ...

مزید پڑھیے

غیبت نہ کرو

اک جوان اک مرد دانا کے قریب آیا اور منت سے بولا اے حبیب وہ فلاں اک دوست ہے جو آپ کا آپ کو وہ کہتا رہتا ہے برا سن کے یہ اس مرد دانا نے کہا ایک ہی کی بھائی اس نے تو خطا کیں خطائیں تین تم نے ایک دم ہے مجھے اس سے سوا اس کا الم ایک تو یہ دوست کو دشمن کیا تم نے اس سے مجھ کو یوں بد ظن کیا دوسری ...

مزید پڑھیے

زندگی ہے عشق میری روح خودداری مری

زندگی ہے عشق میری روح خودداری مری وائے مجبوری مری صد حیف مختاری مری گرچہ تم ہو حاصل ہستی مگر اے جان زیست دولت دیدار سے بڑھ کر ہے ناداری مری تم کو نظروں سے بہ مجبوری گرا سکتا تو ہوں جانے پھر کیا رنگ دکھلائے یہ مختاری مری عشق نے کر دی ہے مجھ پر قسمت دل آشکار کیا جھکے گی اب تمہارے ...

مزید پڑھیے

میرے ارمانوں کو پامال زیاں رہنے بھی دے

میرے ارمانوں کو پامال زیاں رہنے بھی دے شوق منزل کو شریک کارواں رہنے بھی دے وعدہ و پیمان الفت کو نہ دے لفظوں کا رنگ درد سے لبریز نالوں کو جواں رہنے بھی دے دیکھ مجھ کو حسرت آلودہ نگاہوں سے نہ دیکھ یہ فسوں یہ شوخ انداز بیاں رہنے بھی دے حائل الفت اگر ہے زندگی کی کشمکش زندگی کی ...

مزید پڑھیے

مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں

مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں نہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیں وہ بے وفائی کے قائل میں جاں نثاری کا کسی کو اپنی طبیعت پہ اختیار نہیں سمجھ سکے کوئی کیا میرے ظرف عالی کو پئے ہیں میکدے لیکن ذرا خمار نہیں تری نگاہ سے گر کر یقیں ہوا مجھ کو جہاں میں کوئی کسی کا بھی غم گسار ...

مزید پڑھیے

گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھ

گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھ دنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھ دہرانا انجمن میں سمجھ سوچ کے اسے تیری بھی داستاں ہے مری داستاں کے ساتھ اب میں ہوں اور کنج قفس کی مصیبتیں وہ آشیاں کی بات گئی آشیاں کے ساتھ بیتابیوں سے ربط تھا بے چینیوں سے کام گزرے ہیں ایسے دن بھی اس آرام ...

مزید پڑھیے

بدلا ہوا ہے رنگ گلستاں مرے لیے

بدلا ہوا ہے رنگ گلستاں مرے لیے خوں رو رہی ہے چشم بہاراں مرے لیے فیض جنون شوق کے قربان جائیے وسعت ہے دو جہان کی زنداں مرے لیے سب اہل دل ہیں تیری نگاہوں سے فیضیاب اب تو کہاں ہے صرف مری جاں مرے لیے میں خود ہی چھوڑ جاؤں گا یہ محفل حیات کیوں ہو رہے ہو اتنے پریشاں مرے لیے وہ زندگی ...

مزید پڑھیے

اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہے

اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہے ایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہے اے نگاہ نامحرم عشق کی وہ بستی ہے جس قدر اجڑتی ہے اس قدر ہی بستی ہے عاشقی و محبوبی آئنے کے دو رخ ہیں حسن ایک بادہ ہے عشق ایک مستی ہے جذبۂ عبادت کو رکھ جزا سے بیگانہ ورنہ حق پرستی بھی اک ہوس پرستی ہے دل کی پائمالی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4694 سے 6203