بڑی لطیف بڑی خوش گوار گزری ہے
بڑی لطیف بڑی خوش گوار گزری ہے وہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے ہلاک گردش لیل و نہار گزری ہے تمام عمر بڑی بے قرار گزری ہے مقام ایسا بھی آیا ہے عشق میں کہ جہاں نفس کی آمد و شد دل پہ بار گزری ہے نگاہیں فرش رہ دوست اور دل بیتاب عجیب طرح شب انتظار گزری ہے جنوں کا کوئی تعلق نہیں چمن سے ...