قومی زبان

میرے پاپا

پاپا اٹھتے صبح سویرے ان کو آلس کبھی نہ گھیرے پہلا ہے یہ ان کا کام لیتے ہیں بھگوان کا نام بچوں کو ہیں آپ جگاتے سب کو لے کر نام بلاتے پکڑاتے پھر سب کو بستہ دکھلاتے اسکول کا رستہ ممی کو ہے دفتر جانا باندھ کے دیتے اس کو کھانا پھر پاپا کپڑے دھوتے ہیں تب ہی جا کر وہ سوتے ہیں

مزید پڑھیے

ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ

ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ رکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھ غیر کو کرکے رہا یار بھی تدبیر کے ساتھ دے دیا سنکھیا تھوڑا سا اسے کھیر کے ساتھ مرشدی جان کا منہ جس نے کیا تھا کالا آج بھاگی ہے مرا دن بھی اسی پیر کے ساتھ وصل کا نیم مزہ ہو گیا حاصل مجھ کو رات بھر سویا لپٹ ...

مزید پڑھیے

جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا دیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیا غیر جب خلوت سے نکلا دوڑ کر میں نے کہا دوسرا بھی آپ کا امیدوار آ ہی گیا تھا نزاکت سے بہت مجبور پھر بھی بعد مرگ سالا اٹھتا بیٹھتا سوئے مزار آ ہی گیا اس کا سینہ سے لپٹنا تھا کہ تسکیں ہو گئی بے قراری کو مری ...

مزید پڑھیے

اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہے

اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہے نظر کے سامنے جب جلوۂ جانانہ ہوتا ہے مری خصلت سے نا خوش اپنا اور بیگانہ ہوتا ہے جہاں میں بیٹھ جاتا ہوں وہیں ویرانہ ہوتا ہے میرے کندھوں پہ رکھ دے ساقیا دوکان کو اپنی جہاں دو بوتلیں رکھ دیں وہی مے خانہ ہوتا ہے شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر ...

مزید پڑھیے

اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی

اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی توڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کی کوستا ایسے ہے مردود ہمیشہ مجھ کو کبھی مانگی نہ دعا غیر کے مر جانے کی کھنچ رہا ہے وہ شب وصل کا نقشۂ دل میں یاد ہے ہم کو ادائیں تیرے شرمانے کی جب سے اس شوخ کی زلفوں کا لیا ہے بوسہ بڑھ گئی اور بھی وحشت دل‌ ...

مزید پڑھیے

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی تو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتی شب وعدہ میں ان کی کمسنی سے ڈر گیا ورنہ ذرا سی بات پر نازل مصیبت اور ہو جاتی یہی اچھا ہوا تو نے جو زلفوں کو منڈا ڈالا نہیں تو تیرے دیوانوں کی حالت اور ہو جاتی اگر تم نیم عریاں حشر کے میداں میں آ ...

مزید پڑھیے

جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے

جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے تنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگے جب مری گستاخیوں کی وہ سزا دینے لگے وصل کی شب لات گھونسہ بھی مزا دینے لگے مانجھ کر وہ دانتوں کو جب مسکرا دینے لگے چھوٹی موٹی سینکڑوں بجلی گرا دینے لگے قتل کرنے کے بجائے یہ سزا دینے لگے کھود کر گڈھا مجھے ...

مزید پڑھیے

اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے

اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے ایک ذرا سی چیز ہے اس پر بھی اتنا ناز ہے خیر ہو یا رب کے حسن و عشق کا آغاز ہے اس طرف دل ہے ادھر سسری نگاہ ناز ہے جب بہار آئی موے پنجرے چمن کو اڑ گیا اس مصیبت پر بھی اتنی قوت پرواز ہے چھٹ گئیں نبضیں ہوئے لب بند پتلی پھر گئیں اور وہ مردود کہتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہے

عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہے کسی کی آج بے پیسہ حجامت ہونے والی ہے سنا ہے وہ برہنہ ہو کے آتے ہیں سر محشر قیامت میں بھی اک برپا قیامت ہونے والی ہے دعائیں مانگتا ہوں اس لیے باوا کے مرنے کی کہ جو دولت ہے ان کی ما بدولت ہونے والی ہے مزہ تو جب ہے اپنے ساتھ وہ مجھ کو کبھی لے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں ڈروں کیوں وصل کی شب دھول دھپا ہاتھا پائی سے اسے تو میں نیاز و ناز کا رگڑا سمجھتا ہوں گیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے مگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں لیے جاتا ہے مجھ کو ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4586 سے 6203