قومی زبان

طوطا مینا

ایک تھا طوطا ایک تھی مینا تھا اک ساتھ میں ان کا رہنا لیکن ہونی نے دکھلایا مینا کو سب نے بہکایا تیرا طوطا تو ہے کھوٹا بھدا سا ہے اور ہے موٹا چھوڑو اس کو پھر سکھ پاؤ چین کی بنسی بیٹھ بجاؤ لڑنے میں مینا نے نہ سوچا جھگڑا کرکے پر کو نوچا چلی مینا پھر بیاہ رچانے خواب سجانے اور سکھ ...

مزید پڑھیے

سچ بولو

سچ بولو سچے کہلاؤ اس سے اپنا نام کماؤ پہلے خود یہ فرض نبھاؤ اوروں کو پھر راہ دکھاؤ سچ بولو سچے کہلاؤ جس گھر میں ہو سچ اے لالہ اس گھر میں ہو سدا اجالا سچی ہے یہ پریم کی مالا منکا منکا گنتے جاؤ سچ بولو سچے کہلاؤ محنت سے مت جی کو چراؤ نیک بنو اچھے کہلاؤ سب کو اچھی راہ دکھاؤ آؤ آؤ مل کر ...

مزید پڑھیے

دینے والے یہ زندگی دی ہے

دینے والے یہ زندگی دی ہے یا مرے ساتھ دل لگی کی ہے ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز موت کا نام زندگی بھی ہے آشیانوں کی خیر ہو یا رب صحن‌ گلشن میں روشنی سی ہے ہم نے برسوں جگر جلایا ہے پھر کہیں دل میں روشنی کی ہے آپ سے دوستی کا اک مفہوم ساری دنیا سے دشمنی بھی ہے لوگ مرتے ہیں زندگی کے ...

مزید پڑھیے

اے جلیسؔ اب اک تمہیں میں آدمیت ہو تو ہو

اے جلیسؔ اب اک تمہیں میں آدمیت ہو تو ہو ابن آدم ہو یہی جنس وراثت ہو تو ہو رہ گئی تنہا یہ اشک افشاں ہمارے حال پر غم گساری اپنی بھی اک شمع تربت ہو تو ہو آتش غم نے جلا کر خاک کر ڈالا اسے دل کہاں سینے میں اب اک داغ حسرت ہو تو ہو کاروان زندگی کا لگ رہا ہے چل چلاؤ ہر نفس ہم کو صدائے کوس ...

مزید پڑھیے

ضو بار اسی سمت ہوئے شمس و قمر بھی

ضو بار اسی سمت ہوئے شمس و قمر بھی اس شوخ نے پھیرا رخ پر نور جدھر بھی مٹتی ہے کہیں دل سے شب غم کی سیاہی ہوتی ہے کہیں ہجر کے ماروں کی سحر بھی ہیں دونوں جہاں ایک ہی تنویر کے پرتو ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی نکلی تھی ترے جلوۂ رنگیں کی خبر کو گم ہو کے وہیں رہ گئی کمبخت نظر ...

مزید پڑھیے

تجھ سے تصورات میں اے جان آرزو

تجھ سے تصورات میں اے جان آرزو باندھے ہیں ہم نے سینکڑوں پیمان آرزو اے رشک نو بہار ترے انتظار میں کیا کیا کھلائے ہم نے گلستان آرزو پھر دل میں داغ ہائے تمنا ہیں ضو فشاں پھر کر رہا ہوں جشن چراغان آرزو دیکھے کوئی یہ ربط کہ مرنے کے بعد بھی چھوٹا نہ دست شوق سے دامان آرزو اب دیکھیے ...

مزید پڑھیے

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے تاروں کی صف میں چاند سخنور لگا مجھے سوچا تو ہم سفر مجھے تنہائیاں ملیں دیکھا تو آسمان بھی سر پر لگا مجھے تجھ سے بچھڑ کے یہ مری آنکھوں کو کیا ہوا جس پر نظر پڑی ترا پیکر لگا مجھے یہ کس نے آ کے شہر کا نقشہ بدل دیا دیکھا ہے جس کسی کو وہ بے گھر لگا ...

مزید پڑھیے

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی آتا ہے کسی دن تو بشر لوٹ کے گھر بھی منزل تو بڑی شے نہ ملی راہ گزر بھی باندھا تھا بڑے شوق سے کیا رخت سفر بھی اندر سے پھپھوندے ہوئے دیوار بھی در بھی دیکھے ہیں بڑے لوگوں کے ہم نے بڑے گھر بھی ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم اب گھر سا نظر آنے لگا ...

مزید پڑھیے

نغمۂ دل کا نیا انداز ہونا چاہئے

نغمۂ دل کا نیا انداز ہونا چاہئے سارا عالم گوش بر آواز ہونا چاہئے حسن کو حسن سراپا ناز ہونا چاہئے عام جلوؤں سے بہت ممتاز ہونا چاہئے ایک ہی منظر سے اکتا جائیں گے اہل نظر زندگی کو انقلاب انداز ہونا چاہئے چشم نظارہ طلب یہ بے حسی اچھی نہیں امتیاز جلوہ گاہ ناز ہونا چاہئے نغمۂ کیف ...

مزید پڑھیے

ہم شب غم جو اشک بار رہے

ہم شب غم جو اشک بار رہے چاند تارے بھی بیقرار رہے کون منت کش بہار رہے ہاں یہ ویرانہ سازگار رہے وہ ہی تسکین کا سہارا تھے میں نے مانا کہ غم ہزار رہے کبھی گلشن کبھی بیاباں میں ہم بہ ہر حال بے قرار رہے ان کو راحت کی آرزو نہ ہوئی جو ترے غم سے ہمکنار رہے وہ پشیماں نہیں جفا کر کے ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4584 سے 6203