قومی زبان

جام گدائی ہاتھ میں لے نت سانج سویرے پھرتے ہیں

جام گدائی ہاتھ میں لے نت سانج سویرے پھرتے ہیں شمس و قمر یہ دونوں بھکاری حسن کے تیرے پھرتے ہیں مدت سے ہے اختر طالع ماہ جبیں بن گردش میں کھول تو باہمن پوتھی اپنی کب دن میرے پھرتے ہیں پنڈت پوچھو ہاتھ دکھاؤ فال کھلاؤ کوئی پر دن جو ہوں برگشتہ اپنے کس کے پھیرے پھرتے ہیں عقل و فراست ...

مزید پڑھیے

زندگی کا پہلو ہے اس کی لال آنکھوں میں

زندگی کا پہلو ہے اس کی لال آنکھوں میں اس نے دھول کھائی ہے جانے کتنی راہوں میں دل فریبی میں اس کو یہ ہنر بھی آتا ہے سانسیں روک دیتا ہے یوں ہی باتوں باتوں میں غار توڑنے پر بھی راہ کھل نہیں پاتی راستے نکلتے ہیں خود کبھی چٹانوں میں بے گھری کا مطلب تو در بدر نہیں ہوتا کچھ ملنگ رہتے ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل میں وہی عکس یار اب بھی ہے

ہمارے دل میں وہی عکس یار اب بھی ہے مراد یہ ہے کہ ہر پل بہار اب بھی ہے تمہاری آنکھ سے بس آنکھ ہی ملائی تھی ہماری روح میں اس کا خمار اب بھی ہے تمہیں تو فرق نہیں پڑتا ہم ملیں نہ ملیں تمہارے دل پہ انا کا غبار اب بھی ہے اگر ہو وقت کبھی آ کے دیکھ جانا ذرا تمہارے غم میں کوئی بے قرار اب ...

مزید پڑھیے

کسی کی طرز میں کب اختیار کرتی ہوں

کسی کی طرز میں کب اختیار کرتی ہوں میں اپنے کاسے کو ہی خود مزار کرتی ہوں میں یاد کرتی ہوں ان کو جو مجھ کو چھوڑ گئے فلک پہ جب بھی ستارے شمار کرتی ہوں میں چاہتی ہوں مجھے ڈھونڈنے وہ آ نہ سکے میں اپنی راہ میں حائل غبار کرتی ہوں میں اس کے نام کو شعروں میں کیسے لے آؤں اسے میں کیسے بتاؤں ...

مزید پڑھیے

تہمت عشق جب اٹھا لی ہے

تہمت عشق جب اٹھا لی ہے پھر کیوں انصاف کا سوالی ہے آج میں خود سے بحث کرتی رہی اور اب میرا ذہن خالی ہے تیرا کوئی نہ تھا مثالیہ یار بے وفائی بھی تو مثالی ہے حافظہ میں نے آج جانے دیا اک تری یاد ہی بچا لی ہے ہم ہیں اکیسویں صدی کے لوگ ہم نے خود میں جگہ بنا لی ہے بشریٰؔ خود ہی دکھایا ...

مزید پڑھیے

شہر کے شہر بساتے ہوئے مر جاتے ہیں

شہر کے شہر بساتے ہوئے مر جاتے ہیں کار دنیا کو چلاتے ہوئے مر جاتے ہیں لوگ بچھڑیں تو بسا لیتے ہیں دنیا پھر سے ہم تو بس ہاتھ چھڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں جب سے تو راہ کی دیوار سمجھتا ہے ہمیں ہم تری راہ میں آتے ہوئے مر جاتے ہیں چند چہروں کے لیے دید بچا رکھی تھی اب تو ہم پلکیں بچھاتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کنارے دریا کی وسعت کا دھیان ہوتے ہیں

کنارے دریا کی وسعت کا دھیان ہوتے ہیں زیادہ پیار سے ہم بد گمان ہوتے ہیں ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہی منزل ہیں ہم ایسے لوگ کہ جو بے نشان ہوتے ہیں یہ پیار روح کا سایہ دکھانا جانتا ہے جو لفظ ہوتے نہیں وہ بیان ہوتے ہیں یہ ہم جو کہتے ہیں تم ہو تو سب ہمارا ہے ضرورتیں نہیں ہوتیں یہ مان ...

مزید پڑھیے

عداوتوں سے محبت کا غم نکالتے ہیں

عداوتوں سے محبت کا غم نکالتے ہیں ہم اپنے دل کو بھی مرضی سے کب اچھالتے ہیں یہ پوری دنیا ہی بے ہوش ہو گئی ہے بھلا ہمیں خبر ہی نہیں کس کو کب سنبھالتے ہیں جہاں جہاں بھی ضرورت پڑی محبت کی ہم اپنے خون کو پیکر میں بھر ہی ڈھالتے ہیں خود ایسے دوست رکھے ہیں کہ جو وفا نہ کریں ہم اپنے شوق سے ...

مزید پڑھیے

اے مرے دل کی بلا اچھا ٹھہر

اے مرے دل کی بلا اچھا ٹھہر سوچتے ہیں کچھ ترا اچھا ٹھہر آج چلتی ہوں خدا کے پاس میں اے دعا تنہا نہ جا اچھا ٹھہر آج میرے واسطے ہی ٹھہر جا کچھ تو کر خوف خدا اچھا ٹھہر میں نے اس سے جب کہا چلتی ہوں میں اس نے مجھ سے بھی کہا اچھا ٹھہر تم سے تو ہے پاک بازی کا شعور لے کے آؤں آئنہ اچھا ...

مزید پڑھیے

زندگی عشق کے مذہب میں بتانا چاہیں

زندگی عشق کے مذہب میں بتانا چاہیں ہم ترے ساتھ کبھی چاند پہ جانا چاہیں ہم قوانین محبت میں تجھے لے آئیں ہم ترے نام کا اک ملک بسانا چاہیں ہم یہ چاہیں کہ ترے حسن کے پردے کھولیں ہم ترے خواب فرشتوں کو دکھانا چاہیں اس کی آنکھوں میں بسر کرتے رہیں عمر کے خواب اس کی سانسوں سے ہی اب سانس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4555 سے 6203