قومی زبان

تمہارے ہونٹوں پہ بس میرا نام زندہ رہے

تمہارے ہونٹوں پہ بس میرا نام زندہ رہے تمہارے ساتھ بتائی یہ شام زندہ رہے خدا کرے کہ یہ نیت ہی کام آ جائے حوالہ ہو یا نہ ہو میرا کام زندہ رہے مجھے دوام کی چاہت نہیں مگر اے خدا میں چاہتی ہوں کہ میرا کلام زندہ رہے عجیب ڈھنگ کی یہ چال چل گیا ہے کوئی کہ بادشاہ نہ ہو اور غلام زندہ ...

مزید پڑھیے

دشت ہم تجھ سے تعلق کو نبھاتے کیسے

دشت ہم تجھ سے تعلق کو نبھاتے کیسے ہم بھلا ان کی گلی چھوڑ کے جاتے کیسے ان کی آنکھوں میں کوئی اور بسا تھا شاید ہم سے وہ نظریں ملاتے تو ملاتے کیسے ان کے چہرے پہ کسی اور کا حق تھا شاید ہم تو قدموں سے توجہ کو ہٹاتے کیسے میری ہی جان کا وہ مان سے حق مانگتا تھا پگلا یار تھا وہ جان بچاتے ...

مزید پڑھیے

رات کی رانیوں چراغوں کی خیر

رات کی رانیوں چراغوں کی خیر مدھ بھرے پیار کرنے والوں کی خیر خیر ہو خیر ہو فقط ہو خیر میرے سب دوستوں حریفوں کی خیر جھیل پر ملنے والے شاد رہیں اور اس جھیل کے کناروں کی خیر سب گھروں کے چراغ روشن ہوں شہر میں پھرتے بے سہاروں کی خیر روشنی مل گئی تجھے بشریٰؔ روشنی کے سبھی حوالوں کی ...

مزید پڑھیے

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں یہ کون لوگ خلاؤں میں جانا چاہتے ہیں کبھی وہ شعر کہا کرتا تھا ہمارے لیے ہم اس کے شعر اسی کو سنانا چاہتے ہیں وہ چاہے جھوٹ میں اقرار تو کرے اک بار ہم اس کے جھوٹ پہ ایمان لانا چاہتے ہیں ہم اس کی آنکھ میں رہ کر بھی آنسوؤں میں رہے جسے ہم اپنی رگوں میں ...

مزید پڑھیے

جب دن چڑھا بدن پہ بدن سی سجی قمیص

جب دن چڑھا بدن پہ بدن سی سجی قمیص اتری جو رات گھر میں بدن رات کی قمیص دو چار سال پہلے جسے ڈھونڈتے تھے وہ جی چاہتا ہے پھر سے پہنئے وہی قمیص اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح پھبا سلکی بدن پہ جیسے سجے کھردری قمیص چہرے پہ پھیلتا ہے وہی جوگیا بدن آنکھوں میں کوندتی ہے وہی بیخنی قمیص آخر ...

مزید پڑھیے

نظم

عاشق وہ اہل ہوس کے بیچ میں دو ایک ایسی ٹرافیاں تھیں سب کو یہ معلوم تھا ٹیمیں برابری کی رہیں گی سب بدن کے حوصلے ہیں جیب کی کاری گری ہے جو رٹائر ہو گیا وہ گیروے کپڑے پہن کر روح کی مالا کے اک سو آٹھ دانے بیچتا ہے سب بدن کے حوصلے تھے پنشنیں تنخواہ کا اکثر تہائی ہی رہی ہیں اور قیمت ...

مزید پڑھیے

اعادۂ حکایتیں

وہ دن جو گزرے ہیں بھولی بسری حکایتیں ہیں کہ دوستوں سے نہ کوئی شکوہ نہ دشمنوں سے شکایتیں ہیں کچھ ایسا لگتا ہے جیسے اب تک میں ریل میں تھا برا بھلا جو تھا آنے جانے کے کھیل میں تھا شجر شجر تھیں حقارتیں بھی محبتیں بھی شعور غم کے مظاہرے بھی مسرتیں بھی جو مسکرائے تھے ان کے حالات مختلف ...

مزید پڑھیے

پیار ہے وہ

ننھی منی دودھ کی خوشبو لنڈھاتی گڈھلیوں چلتی محبت بانٹتی تتلاہٹوں کا قافلہ سالار ہے وہ رس سے بھاری ہونٹ چندن سی مہکتی زلف امرت سے بھرے الٹے کٹوروں لجلجی لذت سے بوجھل ٹہنیوں کا خندقوں قوسوں تکونوں کا علمبردار ہے وہ جھکتی کمروں برف سے بالوں بدن کے دکھتے جوڑوں جنتی پیروں کی خاطر ...

مزید پڑھیے

نام اس کا

نام جب لیتا ہوں ہونٹوں پر زباں کو پھیرتا ہوں کیوں کہ اس کے نام میں اس کی زباں اس کے لبوں کا ذائقہ ہے جب بدن وہ نام لیتا ہے تو ایسے جھنجھناتا ہے کہ جیسے اس کی زہری انگلیوں نے چھو لیا ہو نام اس کا اس کے اپنے بازوؤں کے دائرے کی طرح شوریدہ بدن کو گھیرتا ہے نام اس کا پانیوں میں گھول کر پی ...

مزید پڑھیے

وہ: ایک

میں جب اس سے ملنے جاتا ہوں اکیلے راستے پر ان گنت آنکھیں ستاروں سنگ ریزوں پتیوں کی میرے قدموں پر جمی ہوتی ہیں لیکن میرے سر پر ہاتھ ہوتا ہے کسی کا جب میرے کپڑوں کے گہرے زخم بے آواز جیبیں بھر نہیں سکتے تمنائیں سر مژگان غربت میرے دل میں پھوٹ کر روتی ہیں لیکن میرے سر پر ہاتھ ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4556 سے 6203