قومی زبان

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں میرا بستر لگوا دو میخانے میں اس کے ہاتھ میں پھول ہے مت کہیے کہیے اس کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے میں میں کب سے موقع کی طاق میں ہوں اس کو جان من کہہ دوں جانے انجانے میں آنکھوں میں مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے جس تہہ خانے میں لاد نہ ...

مزید پڑھیے

مری اداسی مرے درمیان بند کرو

مری اداسی مرے درمیان بند کرو کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کرو پڑھا رہا ہوں میں بچوں کو کربلا کا نصاب تم اپنی تشنہ لبی کا بکھان بند کرو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو مرے اشکو وہ آج خوش ہے تم اپنی زبان بند کرو میں ایک شرط پہ راضی ہوں قید ہونے کو اسی قفس میں مرا آسمان بند کرو مجھے اکیلے ...

مزید پڑھیے

یار یہ اتفاق تو دیکھو

یار یہ اتفاق تو دیکھو اس کو ہی دیکھتا ہے جو دیکھو کاش کوئی مجھے ہلا کے کہے دیکھو وہ آ رہا ہے وہ دیکھو تیرگی سے بہت شکایت تھی اب ذرا دیر شمس کو دیکھو دیکھنا چاہتے ہو اپنا رقیب آئنہ دے رہا ہوں لو دیکھو خوب صورت دکھائی دیتی ہے گر یہی رات صبح کو دیکھو شوق سے دیکھو حسن یار مگر پھر ...

مزید پڑھیے

جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہیے

جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہیے جیت حاصل ہو تو لذت دار ہونی چاہیے ایک عاشق کل سلامت شہر میں دیکھا گیا یہ خبر تو سرخیٔ اخبار ہونی چاہیے کہہ رہی ہے آج کل غزلیں کسی کے عشق میں وہ کہ جو خود زینت اشعار ہونی چاہیے عشق دونوں نے کیا تھا خودکشی بس میں کروں وہ بھی مرنے کے لیے تیار ہونی ...

مزید پڑھیے

تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے

تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے میری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہے ورنہ تو نیند سے بھی نہیں کوئی خاص ربط آنکھوں کو صرف آپ کے خوابوں کا شوق ہے ہم عاشق غزل ہیں تو مغرور کیوں نہ ہوں آخر یہ شوق بھی تو نوابوں کا شوق ہے اس شخص کے فریب سے واقف ہیں ہم مگر کچھ اپنی پیاس کو ہی سرابوں کا ...

مزید پڑھیے

بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں

بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں شمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوں نہیں ہے کام کسی غیر سے مجھے ہرگز جو کچھ بھی لوں تو یہ لالچ ہے اپنے یار سے لوں مجھے ہے کام اسی سے کسی کو کب جانوں ملے جو ایک سے تو کس لئے ہزار سے لوں نہیں لڑی ہے مری آنکھ دوسرے کی طرف مزہ نظارے کا اس چشم پر خمار سے ...

مزید پڑھیے

یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنا

یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنا او جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکنا ہوں دھار پہ تلوار کی ضبط فغاں کا غم ممکن نہ ہو جو چیخنا تو چھپ کے سسکنا دل راستہ تکتا ہے بہت دیر سے اس کا اے دھڑکنو تم آنکھوں کو ہرگز نہ جھپکنا

مزید پڑھیے

اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوا

اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوا میرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہوا میری آرزو تھی کہ خوش نما ہو شگفتہ گلستاں ہر کجا تو وفا کی رسمیں نباہ کے ملا صحرا مجھ کو سجا ہوا میری جان پہ جو گزر گئی وہ خدا کی نیک عطا ہوئی میرے آنسوؤں کی نامی سے دھل کے یہ گلستاں ...

مزید پڑھیے

کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرح

کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرح کوئی آیا ہے بہاروں کی طرح حسرتوں کی بد نصیبی دیکھیے بجھ گئیں ساری چراغوں کی طرح خواب کی بھی سسکیاں سن لیجئے ٹوٹ کے بکھرے ہیں شیشوں کی طرح سرسری سی اک نظر ان کی پڑی آج ہم بھی ہیں ہزاروں کی طرح لطف جانے کا جہاں سے بڑھ کے ہو یاد گر آؤں مثالوں کی ...

مزید پڑھیے

میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوں

میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوں جو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوں مرے غم کی راہوں سے نہ مرا کبھی حسرتوں کا سرا ملا میں محبتوں کی گلی میں گم ہوا جستجو کا غبار ہوں میرے دل سے گزری جو آج تک وہ ہوا تھی تیری تلاش میں تجھے دیکھ کر جو بکھر گیا میں وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4546 سے 6203