قومی زبان

وہ ہوا ہی نہیں جو سوچا تھا

وہ ہوا ہی نہیں جو سوچا تھا میرا ہو کر بھی کب وہ میرا تھا وہ تصور کے جال میں الجھا دھندھ سا اک اداس چہرہ تھا ہر گھڑی اس کے گھر کا دروازہ میری خاطر کھلا ہی رہتا تھا چھین لی اس نے میری بینائی میں نے اک خواب ہی تو دیکھا تھا اس کو بھی لگ گئی خزاں کی نظر شاخ پر آخری جو پتہ تھا رت جگے ...

مزید پڑھیے

جانے وہ چیز کیا تھی جو چمکی زمین پر

جانے وہ چیز کیا تھی جو چمکی زمین پر اجلے سے لوگ آ گرے میلی زمین پر تیرے لیے وہ دھوپ کا ٹکڑا رہا رہے میرے لیے تو آگ سی برسی زمین پر سورج نے دی جو آگ وہ سورج میں گھول دی تھی راکھ اس زمیں کی سو رکھ دی زمین پر یہ بد حواس جسم کسی کام کا نہیں لگتا ہے جیسے لاش ہو جلتی زمین پر یہ فاصلہ ...

مزید پڑھیے

اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو

اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو جبراً نہ کچھ ملے گا تو اصرار کیجئے بے دست و پا ہوں چھوڑیئے منہ میں زباں تو ...

مزید پڑھیے

سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی

سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی دشت کا حال اور تھا یعنی بندشیں روح و جسم پر خوش ہوں قید میں بھی ہے اک مزہ یعنی گر خدا بن نہیں ہے کچھ بھی یہاں ہے خدا کا بھی اک خدا یعنی لوریاں سبکیاں میں بدلی ہیں کوئی سچ مچ میں سو گیا یعنی عشق کی روح کانپ اٹھی ہے جسم نے جسم چھو لیا یعنی

مزید پڑھیے

راستے گھر تمام پتھر کے

راستے گھر تمام پتھر کے ہر طرف تام جھام پتھر کے وہ لگا شوق بت پرستی کا ہو گئے ہم غلام پتھر کے دیر تک میں ہنسا جو دیکھا دیر پتھروں کے مقام پتھر کے وہ حرم تیرا میرا بت خانہ سب کی جڑ ہیں یہ نام پتھر کے کیا ہوا آج تیری محفل میں ہم کو آئے سلام پتھر کے

مزید پڑھیے

وہ عندلیب ہوں کہ صدا مجھ کو غم رہا

وہ عندلیب ہوں کہ صدا مجھ کو غم رہا باغ جہاں میں نخل تمنا قلم رہا وحشی وہ ہوں کہ حد عدم سے نہ بڑھ گیا صحرا میں قیس کا میں قدم در قدم رہا منظور ان کو صاف ہیں وعدہ خلافیاں اے انتظار کیوں مری آنکھوں میں دم رہا اکثر مری غزل میں جو نکتے ہیں رمز ہیں عاجز جبھی ثنا میں ہر اہل قلم ...

مزید پڑھیے

جو شعر تیرے خط کی عبارت میں کام آئے

جو شعر تیرے خط کی عبارت میں کام آئے وہ ہی مشاعروں کی نظامت میں کام آئے لایا تو تھا میں اور کسی کام سے مگر شاید یہ پھول اب مری میت میں کام آئے وہ آ گیا تھا میری گرفت وفا میں پر اس پر فریب تھے جو ضمانت میں کام آئے پھینکی ہے میرے گھر میں مرے دوست نے جو اینٹ شاید وہ میرے گھر کی مرمت ...

مزید پڑھیے

اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے

اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے آپ نے جب کہہ دیا بیکار ہے بیکار ہے چھوڑ کر مطلع غزل دم دار ہے بیکار ہے جب سپہ سالار ہی بیمار ہے بیکار ہے اک سوال ایسا ہے میرے پاس جس کے سامنے یہ جو تیری شدت انکار ہے بیکار ہے تجھ کو بھی ہے چاند کا دیدار کرنے کی طلب اک دیے کو روشنی درکار ہے ...

مزید پڑھیے

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں اڑنے والے اڑتے اڑتے اڑتے ہیں کوئی اس بوڑھے پیپل سے کہہ آؤ پنجرے میں ہم خوب مزے سے اڑتے ہیں ہائے وہ چڑیا اڑ مینا اڑ کے جھگڑے اور پھر ثابت کرنا بکرے اڑتے ہیں پنجرے میں دانا پانی سب رکھا ہے اور پرندے بھوکے پیاسے اڑتے ہیں دیکھ رہے ہیں ہم بھی جوانی ...

مزید پڑھیے

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور کہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اور خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور ٹکرا رہی ہے سانس مری اس کی سانس سے دل پھر بھی دے رہا ہے صدا اور پاس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4545 سے 6203