کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب
کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب خاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں اب ہے رنجشوں سے بھیگی الفت کی چاندنی بھی تھا چاند ہی ستم گر بولو میں کیا کروں اب وہ سامنے سے چل کر گزری بہار کب کی کس سمت ہے مقدر بولو میں کیا کروں اب میں اپنی حسرتوں کا کیوں رنگ ہی نہ بدل دوں تصویر ہو جو ...