قومی زبان

کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب

کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں اب خاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں اب ہے رنجشوں سے بھیگی الفت کی چاندنی بھی تھا چاند ہی ستم گر بولو میں کیا کروں اب وہ سامنے سے چل کر گزری بہار کب کی کس سمت ہے مقدر بولو میں کیا کروں اب میں اپنی حسرتوں کا کیوں رنگ ہی نہ بدل دوں تصویر ہو جو ...

مزید پڑھیے

بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیا

بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیا مرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیا مجھے چھیڑتے ہیں وہ بارہا جو کبھی بڑھاتے تھے حوصلہ تو میں کیا کروں مجھے منزلوں نے ہی راستے سے ہٹا دیا مرے ہم نوا مجھے آپ سے ہیں شکایتیں بھی بہت سی اب کہ نوازشوں کے عروج پہ کیوں چڑھا چڑھا ...

مزید پڑھیے

تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلے

تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلے جیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلے کیا ہوا تیرا کرم جو نہ ہوا گر مجھ پہ میری الفت کے گھروندے سے خزانے نکلے اتنا آساں نہ تھا ان سے مرا دوری رکھنا کس طرح عزم کو ہم اپنے نبھانے نکلے ہم نے جانا تھا محبت کا صلہ ہوگا غم پھر بھی کیا سوچ کے ہم عمر گنوانے ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئے

ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئے سب کے سب ناخدا کے ہاتھ میں ہم دھر آئے جنگ لڑنے گئے ہم جو سحر دنیا سے شام کو گھر کئی حصوں میں بکھر کر آئے اس کی آنکھوں کو تماشے کی تمنا ہے بہت اس سے کہنا کہ کسی رات مرے گھر آئے ہائے اس نقل مکانی نے کیا ہے برباد جتنے بسنے کو گئے اتنے اجڑ کر آئے

مزید پڑھیے

طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیے

طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیے پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیے پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤگے تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیے چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیے ایسے کتنے ہی ملیں گے تمہیں منزل تک سو دیکھنا چھوڑیئے بھی میل ...

مزید پڑھیے

یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ

یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ کیوں کہ میری زباں الگ ہے کچھ آخری بار جل رہا ہوں کیا اب کے میرا دھواں الگ ہے کچھ صرف شکلیں ہی ہیں الگ ورنہ تجھ میں مجھ میں کہاں الگ ہے کچھ جا کہ تجھ کو معاف کرتے ہیں رنج دنیا یہاں الگ ہے کچھ کھولنی ہے زباں قلم کی آج دل میں اٹھتی فغاں الگ ہے کچھ ہم ...

مزید پڑھیے

بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم

بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم بنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم ضبط غم ہار ہی گیا آخر اس کو دیکھا تو رو پڑے تھے ہم تجھ کو کانٹے کہاں سے لگ جاتے آگے آگے جو چل رہے تھے ہم حادثہ کس طرف کو لے آیا گھر سے کیا سوچ کر چلے تھے ہم سچ بتا خالق جہان خراب اس تماشے کو ہی بنے تھے ہم ہو گئی شام تب ملی ...

مزید پڑھیے

جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملال

جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملال کیوں ہو پھر کھیل کے آداب نبھانے کا ملال ایسی تنہائی کی لت ہے اسے بس کیا کہیے گھر کو ہوتا ہے مرے لوٹ کے آنے کا ملال کیسا مایوس تھا وہ دور خزاں بھی مت پوچھ تھا اسے شاخ سے پتوں کو گرانے کا ملال پہلے تو اس کو بھلانے میں کئی سال لگے اب کئی سال سے ...

مزید پڑھیے

پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہا

پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہا اس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہا اب میں ڈوبا تب میں ڈوبا بس اسی امید میں اک سمندر پاس میرے رات بھر بیٹھا رہا میں کوئی منزل نہیں تھا میل کا پتھر تھا بس بعد میرے بھی مسلسل راستہ چلتا رہا ایک آہٹ آ کے میرے در سے واپس ہو گئی اور میں کانوں کو ...

مزید پڑھیے

لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کا

لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کا عکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کا اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی پر دوسرا نام ہے یہ بھی مری تنہائی کا عجب انداز سے کچھ مہر خموشی ٹوٹی وصف پیدا ہوا تصویر میں گویائی کا کھل رہا ہے تری رحمت کی بدولت ورنہ کون تھا دیکھنے والا گل صحرائی کا ہو گئی میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4547 سے 6203