قومی زبان

بات سن لے گا خدا امین کہنا

بات سن لے گا خدا امین کہنا پڑھ کے تم اپنی دعا آمین کہنا اپنی ساری منتیں تم بدبدانا پھاڑ کر اپنا گلا آمین کہنا چپ تھے کیوں تم جب تمہیں مانگا خدا سے اتنا بھی مشکل نہ تھا آمین کہنا ہاں یہ تھا خواہش کا میری مسئلہ پر تھا ضروری آپ کا آمین کہنا اس سے بہتر تھا کہ تم خاموش رہتے کفر تھا ...

مزید پڑھیے

اتنی آسانی سے گر تجھ کو خدا مل جائے گا

اتنی آسانی سے گر تجھ کو خدا مل جائے گا پھر تو تیری وحشتوں کو حوصلہ مل جائے گا تکڑموں سے تجھ کو جنت کا پتا مل جائے گا پر سفارش سے وہاں کیا داخلہ مل جائے گا تیرگی تو بس تماشہ دیکھتی رہ جائے گی آندھیوں سے سازشاً بجھتا دیا مل جائے گا بیچنا تو ہے نہیں ایمان پھر بھی بولئے اس کا ...

مزید پڑھیے

سبھی صدیوں کو مل کر سوچنا ہے

سبھی صدیوں کو مل کر سوچنا ہے کہ اک لمحے کا من کیوں انمنا ہے تمہارے پاس ہیں علم و ہنر سب ہمارے پاس بس اک بچپنا ہے بچا کر تم اسے گلک میں رکھو ہمیں تو زندگی کو خرچنا ہے ہیں کچھ ایمان تیرے کھیل میں یا ترا مقصد یہاں بس جیتنا ہے سوا اس کے قیامت اور کیا ہے خدائی کا خدا سے سامنا ہے ذرا ...

مزید پڑھیے

ایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے ساری دنیا

ایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے ساری دنیا ہم تماشا ہیں تماشائی ہے ساری دنیا جشن ہوگا کسی آئینہ صفت کا شاید سنگ ہاتھوں میں اٹھا لائی ہے ساری دنیا وہ خدا تو نہیں لیکن ہے خدا کا بندہ جس کی آواز سے تھرائی ہے ساری دنیا وہ بھی دنیا کے لیے چھوڑ رہا ہے مجھ کو میں نے جس کے لیے ٹھکرائی ہے ساری ...

مزید پڑھیے

ابھی ہجر دامن میں اترا نہیں ہے

ابھی ہجر دامن میں اترا نہیں ہے مگر وصل کا بھی تو چرچا نہیں ہے ابھی دھوپ آنگن میں کھل کے نہ آئی ابھی رات سے ربط ٹوٹا نہیں ہے خبر تیرے آنے کی جس دن ملی تھی اسی دن سے کھڑکی پہ پردہ نہیں ہے انا کو لیے کب سے بیٹھا ہے دریا جگہ سے سمندر بھی ہلتا نہیں ہے ندی آس میں سوکھ جائے گی اک دن یہ ...

مزید پڑھیے

ساتھ موسم کے ہوا کو بھی مچل جانا تھا

ساتھ موسم کے ہوا کو بھی مچل جانا تھا دھوپ کو شمس کی باہوں میں پگھل جانا تھا شام سے صبح تلک دل تھا تری سرحد میں ایسے حالات میں تو تیر کو چل جانا تھا آؤ اب دیکھو دھواں ہوتے ہوئے چھپر کو یا تو چنگاری کے لگتے ہی سنبھل جانا تھا یاد یوں بھی نہیں رکھنے تھے ہمیں کچھ رشتے بعد اک وقت کے ...

مزید پڑھیے

اب مریض عشق کو کیسا ٹھکانہ چاہیے

اب مریض عشق کو کیسا ٹھکانہ چاہیے آتش دل کو ہوا پر آشیانہ چاہیے لگ گئیں ہیں داؤ پر سانسیں بساط عشق میں اس طرف یا اس طرف طے ہو ہی جانا چاہیے روح کو تیری ضرورت اس قدر ہے جان جاں زیست کے خاطر ضروری آب و دانا چاہیے دن ڈھلے ہی لوٹ آتے ہیں پرندے شاخ پر ہو گئی اب رات تجھ کو لوٹ آنا ...

مزید پڑھیے

جسم و جاں پر کسی جوگی کا میں سایہ دیکھوں

جسم و جاں پر کسی جوگی کا میں سایہ دیکھوں عشق کی تال پہ جوگن کا تھرکنا دیکھوں اپنے چہرے پہ تیری آنکھوں کا پہرہ دیکھوں پیاس دریا کا سمندر میں سمانا دیکھوں قطرہ قطرہ جو نشہ عشق کا اترا مجھ میں رفتہ رفتہ تری سانسوں میں اترتا دیکھوں پہلے مصرع میں تجھے باندھ لیا ہے میں نے دوسرے ...

مزید پڑھیے

کچھ دنوں تک ہی شناسائی رہی

کچھ دنوں تک ہی شناسائی رہی پھر مری شب مری تنہائی رہی رونق محفل نہ آئی کام کچھ زندگی جب خود سے اکتائی رہی وقت رخصت خوب ہی برسی مگر آنکھوں میں غم کی گھٹا چھائی رہی دھیرے دھیرے زخم آخر بھر گئے بس ذرا صورت ہی کجلائی رہی چلتے چلتے کھو گئے منظر کہیں آنکھ جن کی بھی تمنائی رہی ڈھل ...

مزید پڑھیے

کہہ دیا یوں ہی بے وفا مجھ کو

کہہ دیا یوں ہی بے وفا مجھ کو بات آخر ہے کیا بتا مجھ کو رونقیں گم ہیں میرے چہرے کی روز کہتا ہے آئنہ مجھ کو ٹوٹ کر شاخ سے بکھرنا ہے گرم لگتی ہے اب ہوا مجھ کو چار دن میں ہی تھک گئے تھے قدم پھر ملا غم کا آسرا مجھ کو دل جو ہارا تو پھر بچے گا کیا زندگی اب نہ آزما مجھ کو ڈھنگ کا کچھ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4529 سے 6203