قومی زبان

تمام عمر ہی وہم و گمان میں گزری

تمام عمر ہی وہم و گمان میں گزری مری تو پیاس سرابوں کے دھیان میں گزری میں چاندنی تھی زمیں پر اتر ہی آنا تھا وہ ٹھہرا چاند تو شب آسمان میں گزری گلی میں عشق کی مہنگا تھا وصل کا بنگلہ تو سانس ہجر کے سستے مکان میں گزری کہاں پہ کرتی ہے سرکار دل رعایت کچھ کمائی عشق کی ساری لگان میں ...

مزید پڑھیے

نگاہ مست سے اوجھل ہیں منزلیں دل کی

نگاہ مست سے اوجھل ہیں منزلیں دل کی ہیں اپنی آخری سانسوں پہ چاہتیں دل کی بہائے جاتا ہے دریائے عشق آخر تک بھلے ہی لاکھ سنبھالے ہوں دھڑکنیں دل کی ذرا سی دیر بھی بیٹھا نہیں گیا نزدیک ہوا سی ہو گئیں آوارہ راحتیں دل کی جو خود کو قابل کار جہاں بھی رکھنا تھا تو ہم بھی خاک ہی کر ڈالیں ...

مزید پڑھیے

طبیب ہو کے بھی دل کی دوا نہیں کرتے

طبیب ہو کے بھی دل کی دوا نہیں کرتے ہم اپنے زخموں سے کوئی دغا نہیں کرتے پرندے اڑنے لگے ہیں غرور کے تیرے ہوا میں کاغذی پر سے اڑا نہیں کرتے نکیل ڈالنی ہے نفس کے ارادوں پر بنا لگام کے گھوڑے تھما نہیں کرتے دعا کو ہاتھ اٹھاتے نہیں ہر اک کے لئے تو یہ بھی سچ ہے کہ ہم بد دعا نہیں کرتے یہ ...

مزید پڑھیے

برف میں خود کو بدل کر دیکھنا

برف میں خود کو بدل کر دیکھنا پھر کسی سورج پہ چل کر دیکھنا پھینک دو سر سے یہ چادر سائے کی دھوپ پھر چہرے پہ مل کر دیکھنا درد پھولوں کا سمجھنے کے لئے کانٹے ہاتھوں سے مسل کر دیکھنا قد ہمارے سائے کا بھی ہے بڑا دھوپ سے اپنی نکل کر دیکھنا جنگ کر لینا سبھی اسباب سے اپنے رب سے پھر مچل ...

مزید پڑھیے

کبھی گناہوں کی مطلق کفن اتار کے آ

کبھی گناہوں کی مطلق کفن اتار کے آ تو اجلی روح سے میلا بدن اتار کے آ جو میرے وصل کا احساس تجھ پہ طاری ہے کسی کے لمس کی ساری چھون اتار کے آ نئی حیات کے کپڑے لیے ہے موت کھڑی پرانا زندگی کا پیرہن اتار کے آ نظر میں شرم حیا کا بھی پاس باقی رہے نظر کی شوخیوں کو گل بدن اتار کے آ نئی بہار ...

مزید پڑھیے

جو تھی علاقے میں سب سے حسین بیچ آئے

جو تھی علاقے میں سب سے حسین بیچ آئے ہم اپنے پرکھوں کی ساری زمین بیچ آئے پرانے لوگوں نے گنجوں کو کنگھیاں بیچیں نئے جو لوگ ہیں سانپوں کو بین بیچ آئے بھرم تھا دل میں جو محفل کا وہ بھی دل سے گیا سخن تو بکتا تھا تم سامعین بیچ آئے نہیں یہ غم کہ امانت میں کیوں خیانت کی مجھے یہ دکھ ہے وہ ...

مزید پڑھیے

غلطیاں اپنی نہ ہوں پھر بھی منانے کا ہنر

غلطیاں اپنی نہ ہوں پھر بھی منانے کا ہنر اتنا آسان نہیں خود کو مٹانے کا ہنر یادوں کے سانپوں کو قابو میں کروں کیسے میں میں نے سیکھا ہی نہیں بین بجانے کا ہنر میرے چہرے کی ہنسی میں پتا خوشیوں کا نہ ڈھونڈھ مدتوں بعد ملا درد چھپانے کا ہنر میرے اپنوں نے تراشی میری عزت کی قمیص سب کو ...

مزید پڑھیے

لوٹ چلیے

سوختہ جاں سوختہ دل سوختہ روحوں کے گھر میں راکھ گرد آتشیں شعلوں کے سائے نقش ہیں دیواروں پر مفروق چہرے لوٹ چلیے اپنے سب ارمان لے کر جھوٹ ہے گزرا زمانہ اور کسی اجڑے قبیلے کی بھٹکتی روح شاید اپنے مستقبل کا دھندلا سا تصور بحر غم کے درمیاں ہے ایک کالے کوہ کی مانند یہ امروز اپنا کوہ جس ...

مزید پڑھیے

آوارہ گرد لمحے

آوارہ گرد لمحے یوں بے قرار بھٹکیں جیسے پرند پیاسے دیوانہ وار بھٹکیں بے جان و بے تکلم اک آرزو ہے تنہا جنگل میں جیسے کوئی ویران سی عمارت بستی سے دور جیسے خاموشیوں کا پربت تانے کھڑا ہو خود کو جامد صدی کی صورت احساس اپنی لو پر یوں تمتمائے جیسے شعلوں پہ چل رہا ہو اک بے لباس ...

مزید پڑھیے

کوشش رائیگاں

سب کچھ یاد کر رہا ہوں میں کوئی بات بھلا دینے کو اور یہ کیسی سچائی ہے آج بھولنے کی کوشش میں صدیوں کی تاریخیں ازبر کر بیٹھا ہوں میں حیراں ہوں میں ہوں پریشاں کیسے چھپاؤں حالت اپنی ہر کوشش لا حاصل میری اور یہ کمرا یہ دیواریں کھونٹی سے لٹکی شلواریں یہ بے رونق بوڑھی راتیں فرش پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4530 سے 6203