قومی زبان

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے کانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہے کل صبح ایک شاخ یہ دو ادھ کھلا گلاب تھوڑا سا مسکرا کے بہت سوچتے رہے کیا جانے چاندنی نے ستاروں سے کیا کہا شب بھر وہ سر جھکا کے بہت سوچتے رہے ٹوٹا کہیں جو شاخ سے غنچہ تو ہم وہیں پہلو میں دل دبا کے بہت سوچتے رہے کیا ...

مزید پڑھیے

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح ہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرح ہر گلی آئی نظر کوچۂ جاناں کی طرح ہم کو دنیا یہ لگی شہر نگاراں کی طرح کم نہ ہوگی یہ خلش دل کی کسی بھی صورت دل میں سو غم ہیں مکیں خار مغیلاں کی طرح لوگ رک رک کے چلے جانب منزل لیکن ہم رہے گرم سفر گردش دوراں ...

مزید پڑھیے

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ کہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغ ہر ایک سمت اندھیرا ہے ہو کا عالم ہے جلاؤ خوب جلاؤ ندیم جم کے چراغ جہاں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب خوشی کی کرن کہا تھا کس نے جلاؤ حضور غم کے چراغ وفا کا ایک ہی جھونکا نہ سہہ سکے ظالم تری طرح ہی یہ نکلے ...

مزید پڑھیے

جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میں

جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میں اک نرالے کیف کو دل میں بسا لیتا ہوں میں جب بھی یاد آتی ہیں تیرے گیسوؤں کی راحتیں رات کی تاریکیوں میں مسکرا لیتا ہوں میں چاہتا ہوں جب کہ تیری یاد کو روشن کروں غم کی وادی میں نئی شمعیں جلا لیتا ہوں میں راہ میں سوکھا ہوا پتہ بھی ملتا ہے اگر اس ...

مزید پڑھیے

دن ہو یا رات ہم کو چلنا ہے

دن ہو یا رات ہم کو چلنا ہے ہم کو چلنا ہے شب کو ڈھلنا ہے شدت غم سے لڑکھڑاتے ہیں لڑکھڑا کر مگر سنبھلنا ہے دوستو کارواں بنا کے چلو رہ گزاروں کا رخ بدلنا ہے ہر غم زیست ہے قبول مگر ہر غم زیست کو بدلنا ہے

مزید پڑھیے

مزاج عالم امکاں ہے برہم دیکھیے کیا ہو

مزاج عالم امکاں ہے برہم دیکھیے کیا ہو ستم کش پے بہ پے ہوتے ہیں باہم دیکھیے کیا ہو گئے وہ دن کہ آوازوں پہ خاموشی کا پہرہ تھا بہ ہر سو گونجتا ہے سوز پیہم دیکھیے کیا ہو یہ کیسا رنگ محفل ہے پریشاں ہے بہت ساقی بنے بیٹھے ہیں سب مے خوار ہمدم دیکھیے کیا ہو چمن میں رنگ لائے گی صبا کی ...

مزید پڑھیے

جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھ

جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھ خواہش صبح ابھرتی تو ہے ہر شام کے ساتھ ہو وہ تحسین کے ہم راہ کہ دشنام کے ساتھ آ تو جاتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ تیرے کوچے سے بھی گزرا ہوں میں اے حسن طلب صبح کے ساتھ کبھی اور کبھی شام کے ساتھ مشکلیں راہ میں آتی تو بہت ہیں لیکن یاد کر لیتا ہوں ...

مزید پڑھیے

تمام وقت تمہیں سے کلام کرتے ہیں

تمام وقت تمہیں سے کلام کرتے ہیں شب فراق کا یوں اہتمام کرتے ہیں سجائے رکھتے ہیں ہر وقت ہم نئے دن رات تمہارے واسطے یہ التزام کرتے ہیں خیال یار سے کرتے ہیں صبح کا آغاز امید یار کے سائے میں شام کرتے ہیں کہاں مٹے ہیں کسی سے نقوش اہل شوق جو نا سمجھ ہیں وہ یہ سعیٔ خام کرتے ہیں چھپا کے ...

مزید پڑھیے

غم حیات میں جیسے بھی زندگی کی ہے

غم حیات میں جیسے بھی زندگی کی ہے تمہاری یاد تو لیکن کبھی کبھی کی ہے جو غم ملا تھا تو یہ چاہا غم زیاد ملے سیاہ شب میں تمنائے روشنی کی ہے حیات ساتھ میں لائی ہے موت کا ساماں کسی نے ہم سے بہت خوب دل لگی کی ہے یہ غم کی رات نہیں جس کی انتہا کوئی ترے بغیر بسر کچھ عجیب سی کی ہے نگاہ یار ...

مزید پڑھیے

آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرے

آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرے آ کے منزل پر چلا جاتا ہوں منزل سے پرے اپنی منزل پر پہنچ کر سوچنے لگتا ہوں میں اف رے وہ منظر سہانا ہے جو منزل سے پرے دیکھ وہ لہروں کا منظر دیکھ وہ طوفاں کا کھیل دیکھ اے ساحل‌ نشیں کیا شے ہے ساحل سے پرے رات دن دیتی ہی رہتی ہے ترے جلوؤں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4522 سے 6203