دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے
دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے کانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہے کل صبح ایک شاخ یہ دو ادھ کھلا گلاب تھوڑا سا مسکرا کے بہت سوچتے رہے کیا جانے چاندنی نے ستاروں سے کیا کہا شب بھر وہ سر جھکا کے بہت سوچتے رہے ٹوٹا کہیں جو شاخ سے غنچہ تو ہم وہیں پہلو میں دل دبا کے بہت سوچتے رہے کیا ...