ورثہ
میں بہت خوش ہوں کہ اس درجہ ملی دولت غم اتنی دولت کہ گنی جائے نہ رکھی جائے اور پھر کس کو خبر اس کی مگر میرے سوا اس کا مالک بھی نہیں کوئی مگر میرے سوا اور دولت بھی یہ ایسی کہ کہیں بیش بہا ایک اک موتی کا ہے رنگ الگ شان جدا کیوں نہ ہو کتنے ہی سالوں کی کمائی ہے یہ صرف میری نہیں پشتوں کی ...