قومی زبان

ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیں

ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیں رہ طلب میں کسی پیچ و خم کی بات نہیں وصال یار کی امید بھی عجب شے ہے ہزار غم ہیں مگر پھر بھی غم کی بات نہیں چلو کہ مل کے مداوائے غم کریں ہم لوگ ہے سب کو ایک ہی غم بیش و کم کی بات نہیں تمہاری زلف ہے ممکن ہے خود سنور جائے تمہاری زلف میں کچھ پیچ و خم کی ...

مزید پڑھیے

روح آوارہ

یاس خیز صبحوں سے بے سکون شاموں سے بھاگنے کی کاوش نے کتنی رہ گزاروں کے پیچ و خم کے جلووں سے آشنا کرایا ہے در بدر پھرایا ہے جانے کب یہ ہوش آیا صبح و شام بے معنی بے سکون و بے امید پھر تو سلسلہ نکلا لمحہ ہائے کاوش کا چین کھو گیا دن کا نیند اڑ گئی شب کی جستجو کا یہ چکر کھینچ لے گیا ...

مزید پڑھیے

رات

رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیں پوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہے پوچھنے سے کیا حاصل پوچھنے سے کیا ہوگا محشر اک بپا ہوگا شور ناروا ہوگا درد کم تو کیا ہوگا اور کچھ سوا ہوگا کون کس کی سنتا ہے کس کو اتنی فرصت ہے داد خواہ بننا بھی فعل بے فضیلت ہے داد سم قاتل ہے مرنا کس کو بھاتا ...

مزید پڑھیے

وقت کی صدیاں

نہ جانے کتنی صدیوں سے زمانہ مثال موج بہتا آ رہا ہے سکوں کا رنگ اس کو کب ملا ہے پریشاں ہے یہ کیوں کس کو پتا ہے یہ بیتابی ہر اک لمحے کی کیا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دریا لئے طوفاں ہزاروں اپنے اندر سکوں سے پر نظر آتا ہے باہر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے زمانہ کشاکش سے بھرا ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

جب جب تیری آنکھ سے ٹپکا آنسو شبنم روئی ہے

جب جب تیری آنکھ سے ٹپکا آنسو شبنم روئی ہے جیسے شمع جلی ہے شب بھر تھک کے صبح کو سوئی ہے جو بوؤ گے وہ کاٹو گے قدرت کا قانون ہے یہ ہم تو کیکر کاٹ رہے ہیں کیسی فصل یہ بوئی ہے خون کے دریا تیر کے ہم نے آزادی حاصل کی تھی پر ساحل پہ پہنچ کے ہم نے خود ہی ناؤ ڈبوئی ہے مظلوموں نے پامالوں نے ...

مزید پڑھیے

حد نظر تک ویرانے ہیں آبادی کا نام نہیں

حد نظر تک ویرانے ہیں آبادی کا نام نہیں کس رستہ پہ قدم بڑھاؤں کوئی رستہ عام نہیں جلتا ریگستان ہے ہر سو تند ہوائیں چلتی ہیں دھو دھو کرتی ہے دوپہری صبح نہیں ہے شام نہیں ساری عمر گزاری میں نے خون کے آنسو پی پی کر خوشیوں کے دو گھونٹ پلا دے ایسا کوئی جام نہیں تنہا ہوں میں اس دنیا میں ...

مزید پڑھیے

اک بار محبت میں یہ دل جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا

اک بار محبت میں یہ دل جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا مالا میں پرویا سو موتی جو چھوٹ گیا سو چھوٹ گیا دل ایسا نازک شیشہ ہے یہ پھر سے نہ جوڑا جاتا ہے اک بار کسی کے ہاتھوں سے جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا الفت کا مقدر بھی ظالم بس بلبلے جیسا ہوتا ہے یہ بلبلہ بن کر پانی پر جو پھوٹ گیا سو پھوٹ گیا اک بار ...

مزید پڑھیے

زندگی ہم پہ مہرباں نہ ہوئی

زندگی ہم پہ مہرباں نہ ہوئی پھر بھی امید بد گماں نہ ہوئی پنکھ ٹوٹے ہیں گو اڑانوں میں چشم محروم آسماں نہ ہوئی دل پہ گرچہ سکوت چھایا تھا آتما اپنی بے زباں نہ ہوئی جاری تھا یوں سفر حوادث میں سست رفتار کارواں نہ ہوئی پاؤں چھلنی ہوئے مگر بسملؔ دولت عزم ناتواں نہ ہوئی

مزید پڑھیے

جان دی جس کے لیے اس کو خبر کوئی نہیں

جان دی جس کے لیے اس کو خبر کوئی نہیں اب کھلا مجھ پر کہ مر مٹنا ہنر کوئی نہیں آ ہی پہنچی اک دریچے سے شعاع آفتاب میں یہ سمجھا تھا شب غم کی سحر کوئی نہیں آج کس کی جان سے کھیلو گے اے چارہ گرو آج پہلو میں مرے زخم جگر کوئی نہیں زاویہ ہائے نظر میں آہ اتنا اختلاف گو تری تحریر میں زیر و ...

مزید پڑھیے

تری دلبری سلامت مرے غم کا بول بالا

تری دلبری سلامت مرے غم کا بول بالا مری آتش دروں سے ترے گھر میں ہے اجالا یہ مرا خلوص باطن وہ رقیب کی نمائش یہاں آنسوؤں کے موتی وہاں موتیوں کی مالا ترا حسن فتنہ ساماں مرا عشق والہانہ یہ جنوں تو وہ قیامت پڑا آفتوں سے پالا مری خامشی جہالت مرا بولنا بغاوت مرے ذوق آگہی نے مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4523 سے 6203