قومی زبان

اگر میں ان کی نگاہوں سے گر گیا ہوتا

اگر میں ان کی نگاہوں سے گر گیا ہوتا تو آج اپنی نظر سے اتر گیا ہوتا تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کو تیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتا جو تم نے پیار سے آواز مجھ کو دی ہوتی رہ حیات سے ہنس کر گزر گیا ہوتا جو جھوٹ موٹ ہی تم مجھ کو اپنا کہہ دیتے تو میرے پیار کا ہر قرض اتر گیا ہوتا جو اک ...

مزید پڑھیے

واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائے

واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائے فردوس کا منظر بھی نظروں سے اتر جائے روداد شب غم یوں ڈرتا ہوں سنانے سے محفل میں کہیں ان کی صورت نہ اتر جائے اک وعدۂ فردا کی امید پہ زندہ ہوں اے کاش کسی صورت یہ رات گزر جائے کعبے ہی کے رستے میں مے خانہ بھی پڑتا ہے الجھن میں یہ رہرو ہے جائے تو کدھر ...

مزید پڑھیے

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو دیتا ہے اب یہی دل شوریدہ مشورہ جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا یاں بھی قرینے سارے مرے گھر کے دیکھ لو شاہان کج کلاہ زمیں بوس ہو گئے تیور مگر وہی ہیں مرے سر کے دیکھ ...

مزید پڑھیے

دل ہے اپنا تو غم پرائے ہیں

دل ہے اپنا تو غم پرائے ہیں ہائے کیا کیا فریب کھائے ہیں تار اشکوں کا کس طرح ٹوٹے ہم بھی اک بار مسکرائے ہیں تکیہ تھا زاد راہ پر اپنا راہزن کتنے کام آئے ہیں میں یہ سمجھا تھا ہم سفر ہوں گے آہ کتنے مہیب سائے ہیں بھول بیٹھے ہوں وہ کہیں اے دل آج کیوں اتنے یاد آئے ہیں

مزید پڑھیے

ترے خیال کے صدقے یہ کیا مقام آیا

ترے خیال کے صدقے یہ کیا مقام آیا کبھی حیات کبھی موت کا پیام آیا ترا خیال مرا سوز آرزوئے سحر کوئی تو تھا شب فرقت جو دل کے کام آیا کسی امید کا مارا دکھائی دیتا تھا وہ خوش نصیب پرندہ جو زیر دام آیا کسی کے خط میں کہیں ذکر تک نہ تھا اس کا وہ اک پیام خصوصی جو دل کے نام آیا نہ پوچھ کتنی ...

مزید پڑھیے

سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے

سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے بے درد تھے جو عین جوانی میں مر گئے ملبوس اہل ہوش کا معیار دیکھ کر دیوانے بے لباس درختوں سے ڈر گئے شاید اداسیوں پہ ترس آ گیا مری کل رات شہر جاں میں فرشتے اتر گئے سنتے ہیں ان پہ نور برستا ہے آج تک جن وادیوں سے ہو کے ترے خوش نظر گئے ہم سر پھرے بھی ...

مزید پڑھیے

محو کر دی ذہن سے غم نے تری تصویر بھی

محو کر دی ذہن سے غم نے تری تصویر بھی دونوں دشمن ہیں مری تقدیر بھی تدبیر بھی مسکراتی ہے مری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کس قدر بے درد ہے ظالم تری تصویر بھی کس قدر نازک ہے احساسات کا عالم کہ عشق ایک ہی نشہ ہے لیکن زہر بھی اکسیر بھی ان کے دیوانوں کی سج دھج کو حقارت سے نہ دیکھ عشق کا ...

مزید پڑھیے

رہ گیا خواب دل آرام ادھورا کس کا

رہ گیا خواب دل آرام ادھورا کس کا ڈھل گئی شب تو کھلا ہے یہ دریچہ کس کا لمحہ لمحہ مجھے ویران کئے دیتا ہے بس گیا میرے تصور میں یہ چہرہ کس کا آزمائش کی گھڑی ہے سر مقتل دیکھیں زیر خنجر وہی رہتا ہے ارادہ کس کا یہ جو بیدار بھی ہیں سوئے ہوئے بھی ان میں شام کس کی ہے خدا جانے سویرا کس ...

مزید پڑھیے

انجم و مہر و گل و برگ و صبا کچھ بھی نہیں

انجم و مہر و گل و برگ و صبا کچھ بھی نہیں خوب دیکھا بخدا غیر خدا کچھ بھی نہیں وحشت و مستی و حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جسے اس کا پتہ اپنا پتہ کچھ بھی نہیں ہستئ عالم ہشیار ہو کہ ہو اپنا وجود سب کچھ اک وہم مسلسل کے سوا کچھ بھی نہیں عشق تو زندۂ جاوید بنا دیتا ہے عشق کے باب میں مفہوم ...

مزید پڑھیے

کتنے ہوئے ہیں خون یہاں اک اصول کے

کتنے ہوئے ہیں خون یہاں اک اصول کے آئیں گے اب نہ شہر تمنا میں بھول کے ساری مسافرت کی تھکن دور ہو گئی پیش آئے کتنے پیار سے کانٹے ببول کے چہرے ہوئے جو گرد تو آئینہ بن گئے کیا طرفہ معجزات تھے صحرا کی دھول کے کتنا حسیں تھا جرم غم دل کہ دو جہاں در پہ ہیں آج تک مرے رنگ قبول کے نازاں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4515 سے 6203