قومی زبان

کہیں نہیں ہیں آہٹیں نہ تیرا انتظار ہے

کہیں نہیں ہیں آہٹیں نہ تیرا انتظار ہے مگر وہیں ہے اک خلش جو دل میں برقرار ہے نہ تہمتیں نہ بغض ہے نہ ہی گلہ بھی ہے کوئی مگر سوال لاکھ ہیں بہت ہی انتشار ہے نہ مل سکے قریب سے نہ ہی جدا ہوئے کبھی ہر ایک چیز ناتمام غم ہے یا خمار ہے دعا نہیں قبول کی تو رحمتیں نوازشیں ابھی پرانی نعمتوں ...

مزید پڑھیے

دل یہ خاموش تھا ہم زباں مل گئے

دل یہ خاموش تھا ہم زباں مل گئے سب کہاں سے چلے تھے کہاں مل گئے جو اطاعت پذیری ہوئی ضابطہ پھول صحرا کے بھی درمیاں مل گئے نقص غیروں کے جن کی مذمت تھی کی وہ تو میرے ہی اندر نہاں مل گئے سر جھکایا ہی تھا انکساری میں جو مجھ کو قدموں کے تیرے نشاں مل گئے اک بشر نہ ملا جو چلے ساتھ میں پھر ...

مزید پڑھیے

لاکھ چہرے تھے مگر تجھ سا کہیں پر بھی نہ تھا

لاکھ چہرے تھے مگر تجھ سا کہیں پر بھی نہ تھا تھا نہ بہتر تجھ کو کھو کر حال بد تر بھی نہ تھا اتنا کر دیتا کہ تو کوئی مجھے الزام دے دی سزا پر جرم کوئی تو مرے سر بھی نہ تھا لڑکھڑائے پیر پھر کیوں کیوں نظر کھو سی گئی صرف تیری یاد تھی ہاتھوں میں ساغر بھی نہ تھا ہو گیا جتنا کہ تنہا دوستوں ...

مزید پڑھیے

کچھ رہا غم کہ وہ سارا نہ گیا

کچھ رہا غم کہ وہ سارا نہ گیا تم گئے ذکر تمہارا نہ گیا نام تسبیح پڑھی تھی جس کی وقت آنے پہ پکارا نہ گیا رائیگاں تھیں کہ نہیں کیا معلوم کچھ امیدوں کا سہارا نہ گیا بوجھ خوابوں کا لیے پھرتے تھے قبر میں بھی وہ اتارا نہ گیا منزلیں چھوٹ گئیں مل مل کے بس بھٹکنا ہی ہمارا نہ گیا

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کا وسیلہ تو بنایا جائے

زندہ رہنے کا وسیلہ تو بنایا جائے غم کوئی ڈھونڈ کے سینے سے لگایا جائے پھر مسرت سے چہکنے سی لگی ہیں آنکھیں پھر چلو ان کو نیا خواب دکھایا جائے ایک مدت ہوئی آنسو نہیں نکلا کوئی کسی ارمان کا پھر خون بہایا جائے زندگی کیا ہے تڑپ ہی نہ اگر ہو کوئی کچھ ستم کر کے یوں ہی دل کو ستایا ...

مزید پڑھیے

ہوئی جو رات پہلو میں خوشی سے مر گئے ہم تو (ردیف .. ا)

ہوئی جو رات پہلو میں خوشی سے مر گئے ہم تو اگر تیرے ہی آنگن میں سحر ہوتی تو کیا ہوتا گزر تو یوں بھی جائے گی کڑکتی دھوپ میں تنہا ترے دامن کے سائے میں بسر ہوتی تو کیا ہوتا ہزاروں راستے وا تھے مگر تجھ تک جو پہنچاتی کہیں وہ ایک چھوٹی سی ڈگر ہوتی تو کیا ہوتا تری اس سرد مہری میں کسک سی ...

مزید پڑھیے

طویل لگتی ہو گر رہ گزر تو جانے دو (ردیف .. ے)

طویل لگتی ہو گر رہ گزر تو جانے دو ہوا ہو پیروں کو مشکل سفر تو جانے دو پھر ایک روز صدا بن کے ہم بھی گونجیں گی بدن ہمارا خموشی سے بھر تو جانے دو مجھے بھی علم ہے کتنا بگڑ چکا ہوں میں دوبارہ بن نہیں سکتا اگر تو جانے دو ہمارے ساتھ اگر ہیں تو اپنے ہی سائے جو ڈھونڈھتے ہو یہاں پر شجر تو ...

مزید پڑھیے

پھر وہی شخص مرے خواب میں آیا ہوگا

پھر وہی شخص مرے خواب میں آیا ہوگا نیند میں اس نے ہی آنکھوں کو رلایا ہوگا اس اماوس میں بھی مہتاب اگا ہے یعنی اس نے انگلی سے کہیں چاند بنایا ہوگا میں ہی اب اس کو سمجھ سکتا ہوں اس کو میں نے یاد کرتے ہوئے کس طور بھلایا ہوگا ایک مدت سے ہوں تنہائی شدہ کم از کم پھر ابھی کس نے مرے دل کو ...

مزید پڑھیے

یا پھر تم خوابوں کے ذریعہ آ جانا

یا پھر تم خوابوں کے ذریعہ آ جانا جیسے بھی ہو لیکن ملنے آ جانا تھوڑی دیر میں دنیا آنے والی ہے تم دنیا سے تھوڑا پہلے آ جانا اب میں اپنی ذات میں بٹنے والا ہوں تم چاہو تو دل کے حصے آ جانا مجھ سے ملنے کا جب بھی جی چاہے تو بن کچھ سمجھے بن کچھ سوچے آ جانا میں تم سے کچھ دور ہی ہوں گر چاہو ...

مزید پڑھیے

دکھ سہتے ہیں چپ رہتے ہیں

دکھ سہتے ہیں چپ رہتے ہیں رونے والوں سے اچھے ہیں جی ہلکا کرنا ہی نہیں ہے ورنہ تو آنسو اتنے ہیں کر لیتے ہیں آنکھیں پتھر میرے جیسے جب روتے ہیں جن کی امید نہ ہو آنے کی ان کا بھی رستہ تکتے ہیں بدن ہوں یا میں شاخ شجر کی مجھ سے کتنے گل لپٹے ہیں راہ میں اک بھی جسم نہیں ہے جانے یہ کس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4474 سے 6203