کہیں نہیں ہیں آہٹیں نہ تیرا انتظار ہے
کہیں نہیں ہیں آہٹیں نہ تیرا انتظار ہے مگر وہیں ہے اک خلش جو دل میں برقرار ہے نہ تہمتیں نہ بغض ہے نہ ہی گلہ بھی ہے کوئی مگر سوال لاکھ ہیں بہت ہی انتشار ہے نہ مل سکے قریب سے نہ ہی جدا ہوئے کبھی ہر ایک چیز ناتمام غم ہے یا خمار ہے دعا نہیں قبول کی تو رحمتیں نوازشیں ابھی پرانی نعمتوں ...