قومی زبان

عمر بھر ساتھ ساتھ آتا ہے

عمر بھر ساتھ ساتھ آتا ہے وہ جو عجلت میں چھوٹ جاتا ہے روح کی بات کرنے والے تو جسم کس کے لئے بچاتا ہے ایک تو تیرنا نہیں آتا اور پھر کشتیاں چلاتا ہے بعد مدت کے مل رہا ہے وہ دیکھیے بات کیا بناتا ہے جانے کیا حادثہ ہوا تھا کہ دل چراغوں سے خوف کھاتا ہے میرا انداز اور کچھ ہے اور آئینہ ...

مزید پڑھیے

بہانہ کر لیا پھر سے حیا کا

بہانہ کر لیا پھر سے حیا کا کریں کیا آپ کی ظالم ادا کا عبادت کر رہیں ہیں وہ کہ یعنی خدا بھی نام لیتے ہیں خدا کا ہماری کشتیاں ہیں بادبانی ہمیں کرنا پڑے گا کچھ ہوا کا شریک جرم ہے منصف اگر تو ہمیں ڈر ہی نہیں کوئی سزا کا انہیں نے موت پھیلائی تھی پہلے جنہیں بیوپار کرنا تھا دوا ...

مزید پڑھیے

یہ شفق شام ہو رہی ہے اب

یہ شفق شام ہو رہی ہے اب اور ہر گام ہو رہی ہے اب جس تباہی سے لوگ بچتے تھے وہ سر عام ہو رہی ہے اب عظمت ملک اس سیاست کے ہاتھ نیلام ہو رہی ہے اب شب غنیمت تھی لوگ کہتے ہیں صبح بدنام ہو رہی ہے اب جو کرن تھی کسی دریچے کی مرکز بام ہو رہی ہے اب تشنہ لب تیری پھسپھساہٹ بھی ایک پیغام ہو رہی ...

مزید پڑھیے

ہونے لگی ہے جسم میں جنبش تو دیکھیے

ہونے لگی ہے جسم میں جنبش تو دیکھیے اس پر کٹے پرندے کی کوشش تو دیکھیے گونگے نکل پڑے ہیں زباں کی تلاش میں سرکار کے خلاف یہ سازش تو دیکھیے برسات آ گئی تو درکنے لگی زمین سوکھا مچا رہی ہے یہ بارش تو دیکھیے ان کی اپیل ہے کہ انہیں ہم مدد کریں چاقو کی پسلیوں سے گزارش تو دیکھیے جس نے ...

مزید پڑھیے

ایک گڑیا کی کئی کٹھ پتلیوں میں جان ہے

ایک گڑیا کی کئی کٹھ پتلیوں میں جان ہے آج شاعر یہ تماشہ دیکھ کر حیران ہے خاص سڑکیں بند ہیں تب سے مرمت کے لئے یہ ہمارے وقت کی سب سے سہی پہچان ہے ایک بوڑھا آدمی ہے ملک میں یا یوں کہو اس اندھیری کوٹھری میں ایک روشن دان ہے مصلحت آمیز ہوتے ہیں سیاست کے قدم تو نہ سمجھے گا سیاست تو ...

مزید پڑھیے

وہ آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہے

وہ آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہے ماتھے پہ اس کے چوٹ کا گہرا نشان ہے وہ کر رہے ہیں عشق پہ سنجیدہ گفتگو میں کیا بتاؤں میرا کہیں اور دھیان ہے سامان کچھ نہیں ہے پھٹے حال ہے مگر جھولے میں اس کے پاس کوئی سنویدھان ہے اس سر پھرے کو یوں نہیں بہلا سکیں گے آپ وہ آدمی نیا ہے مگر ساؤدھان ...

مزید پڑھیے

روز جب رات کو بارہ کا گجر ہوتا ہے

روز جب رات کو بارہ کا گجر ہوتا ہے یاتناؤں کے اندھیرے میں سفر ہوتا ہے کوئی رہنے کی جگہ ہے مرے سپنوں کے لئے وہ گھروندا ہی سہی مٹی کا بھی گھر ہوتا ہے سر سے سینے میں کبھی پیٹ سے پاؤں میں کبھی اک جگہ ہو تو کہیں درد ادھر ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اڑ کر بھی کہاں پہنچیں گے ہاتھ میں جب ...

مزید پڑھیے

جانے کس کس کا خیال آیا ہے

جانے کس کس کا خیال آیا ہے اس سمندر میں ابال آیا ہے ایک بچہ تھا ہوا کا جھونکا صاف پانی کو کھنگال آیا ہے ایک ڈھیلا تو وہیں اٹکا تھا ایک تو اور اچھال آیا ہے کل تو نکلا تھا بہت سج دھج کے آج لوٹا تو نڈھال آیا ہے یہ نظر ہے کہ کوئی موسم ہے یہ صبا ہے کہ وبال آیا ہے ہم نے سوچا تھا جواب ...

مزید پڑھیے

اگر خدا نہ کرے سچ یے خواب ہو جائے

اگر خدا نہ کرے سچ یے خواب ہو جائے تری سحر ہو مرا آفتاب ہو جائے حضور عارض و رخسار کیا تمام بدن مری سنو تو مجسم گلاب ہو جائے اٹھا کے پھینک دو کھڑکی سے ساغر و مینا یے تشنگی جو تمہیں دستیاب ہو جائے وہ بات کتنی بھلی ہے جو آپ کرتے ہیں سنو تو سینے کی دھڑکن رباب ہو جائے بہت قریب نہ آؤ ...

مزید پڑھیے

آج ویران اپنا گھر دیکھا

آج ویران اپنا گھر دیکھا تو کئی بار جھانک کر دیکھا پاؤں ٹوٹے ہوئے نظر آئے ایک ٹھہرا ہوا کھنڈر دیکھا راستہ کاٹ کر گئی بلی پیار سے راستہ اگر دیکھا نالیوں میں حیات دیکھی ہے گالیوں میں بڑا اثر دیکھا اس پرندے کو چوٹ آئی تو آپ نے ایک ایک پر دیکھا ہم کھڑے تھے کہ یہ زمیں ہوگی چل پڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4473 سے 6203