قومی زبان

جو اپنی پلکوں پہ آنسو سجائے رکھتے ہیں

جو اپنی پلکوں پہ آنسو سجائے رکھتے ہیں وہ آستینوں میں خنجر چھپائے رکھتے ہیں جنہیں سکھایا تھا تہذیب کا سبق ہم نے ہمارے بارے میں سنگین رائے رکھتے ہیں ردائے صبر میں لپٹے ہوئے یہ سنت فقیر سمسیاؤں کا اتم اپائے رکھتے ہیں وفا کے خون کی سرخی کے ساتھ چہرے پر ہم ان کی یاد کے زیور سجائے ...

مزید پڑھیے

خیال سے تو ابتدا ہوئی ہے کائنات کی

خیال سے تو ابتدا ہوئی ہے کائنات کی عمل کی دسترس میں ہیں حدیں تخیلات کی فقط عمل کی ایک بات کر ہزار بات کی رخ حیات سے اٹھا ردا توقعات کی یہی تو اک دلیل ہے مریض نفسیات کی عدو یہ ذمہ داریاں ہیں اپنی واجبات کی سزا ہے کس گناہ کی کہ ایسے پاسباں ملے جو دشمنوں سے مانگتے ہیں بھیک التفات ...

مزید پڑھیے

اک پھٹی آستین کا دست دعا جھٹک دیا

اک پھٹی آستین کا دست دعا جھٹک دیا یہ تو خدا کا ہاتھ تھا یہ تو نے کیا جھٹک دیا تو بھی زمیں پہ آ کے کر مٹی سے روح تک سفر میں نے تو سر جھکا لیا بار انا جھٹک دیا آتش انتقام سے اپنے وجود کو بچا میرا تو ذہن صاف ہے دل میں جو تھا جھٹک دیا اندھی گلی کے موڑ پر آئی تھی روشنی نظر چوں کہ مرا ...

مزید پڑھیے

تم اپنے آپ کو بدلو تو دوسرا بدلے

تم اپنے آپ کو بدلو تو دوسرا بدلے تمہیں یہ شوق کہ کردار آئینہ بدلے دل و دماغ کی راہیں ہیں مختلف کب سے تمہارے قرب سے شاید یہ فاصلہ بدلے کوئی تو خوف مقدر سے بے عمل ہو جائے کوئی عمل ہی سے قسمت کا فیصلہ بدلے انا کے زہر کو تھوکو تو متحد ہو جائیں بدی سے ہارتے رہنے کا سلسلہ بدلے تمام ...

مزید پڑھیے

ہر عداوت پہ جہاں صلح کی صیقل ہو جائے

ہر عداوت پہ جہاں صلح کی صیقل ہو جائے دوست سچا بھی نکل آئے تو پاگل ہو جائے چڑھتے دریا سے ڈرے ہیں تو ہے اپنوں کی تلاش کاش کچھ دیر کو یہ خوف مسلسل ہو جائے مات کھا کھا کے یوں ہی روتے رہے ہیں صدیوں ان کا دستہ بھی کسی بار ہراول ہو جائے کیوں جھکے سر یہ کسی غیر خدا کے آگے کیوں عقیدت میں ...

مزید پڑھیے

چھپنے کے لئے تو میری آنکھیں ہی بہت ہیں

چھپنے کے لئے تو میری آنکھیں ہی بہت ہیں منظور نظر سب کے ہوں چاہیں بھی بہت ہیں صرف اپنے لئے جینے کو جینا نہیں کہتے اس راہ میں رشتوں کی سرائیں بھی بہت ہیں ٹوٹے ہوئے وعدوں کی سرنگوں میں گھروں کو جلتے ہوئے زخموں کی شعاعیں بھی بہت ہیں ہر شے پہ لگی ہے یہاں نیلام کی بولی بربادیٔ اخلاق ...

مزید پڑھیے

خود سے خودی کے عیب چھپانا فضول ہے

خود سے خودی کے عیب چھپانا فضول ہے یوں آئینے کو آنکھ دکھانا فضول ہے احساس کو مذاق بنانا فضول ہے تم کو تو دل کی بات بتانا فضول ہے پانی سے دل کی آگ بجھانا فضول ہے اے شخص آنسوؤں میں نہانا فضول ہے ممکن ہے نیند نیند نہ ہو کر بہانا ہو وہ سو نہیں رہا تو جگانا فضول ہے اس نے جو ٹھان ہی لی ...

مزید پڑھیے

نگاہوں کو نشانہ چاہئے تھا

نگاہوں کو نشانہ چاہئے تھا کوئی پاگل دیوانہ چاہئے تھا یہ مانا تھے خفا ہم پھر بھی لیکن تمہیں نزدیک آنا چاہئے تھا میں اپنے جبر پر حیران ہوں خود مجھے تو ٹوٹ جانا چاہئے تھا مجھے پا کر رواں سا ہو رہے ہو تو کیا تم کو زمانہ چاہئے تھا وہ قصہ یاد رکھنے کا نہیں ہے سنا اور بھول جانا چاہئے ...

مزید پڑھیے

سلگتا دشت یکایک بجھا نہیں کرتا

سلگتا دشت یکایک بجھا نہیں کرتا یہ وقت ہجر ہے ایسے کٹا نہیں کرتا ذرا سا فرق ہے شیشے میں اور اس دل میں یہ ٹوٹتا تو ہے لیکن صدا نہیں کرتا دلوں میں عشق کی کھیتی افیم جیسی ہے کہ اس کے بعد یہاں کچھ اگا نہیں کرتا کچھ ایک لوگ محبت سے خوف کھاتے ہیں سبھی کو موسم باراں ہرا نہیں کرتا پتا ...

مزید پڑھیے

چند لمحات میں صدیوں کا مزہ لے آیا

چند لمحات میں صدیوں کا مزہ لے آیا یا کہوں بیٹھے بٹھائے ہی بلا لے آیا خود کو الجھا کے زمانے کے مسائل میں ادھر میں تری یاد سے اپنے کو بچا لے آیا آگ سے آگ تو لوہے سے کٹے گا لوہا لو نیا زخم پرانے کی دوا لے آیا ایک تقصیر کہ میں جس کی معافی کے لیے ہر دفعہ ایک نئی اور سزا لے آیا سرخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4472 سے 6203