قومی زبان

شو کیس سے جھانکتی گڑیا

کبھی ہم پھول ہوتے تھے گلابی نرم و نازک اوس میں بھیگا مہکتا مسکراتا خوشبوؤں کو چومنے والا محبت کرنے والے جھوم اٹھتے جب ہمیں پاتے ہمیں پوروں سے چھو کر روح تک محسوس کرتے تھے کئی کالر کئی آنکھیں انوکھے وصل کے لمحے ہمارے منتظر ہوتے ہمارے حسن کے چرچے گلی کوچوں میں ہوتے تھے اداؤں کے ...

مزید پڑھیے

مسیحا

خدا نے جب شفا تقسیم کی سارے زمانے میں تمہاری انگلیوں پر اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا کسی بیمار کو چھو لو شفا اس کا مقدر ہے تم ہر بیمار کو اپنا سمجھتے ہو مداوا اس کا کرتے ہو ہر اک بیمار کے چہرے پہ رونق تم سے قائم ہے دعا عیسائی کی تم کو لگ گئی شاید تمہی امید ہو اس کی شفا ہاتھوں پہ تم نے رب ...

مزید پڑھیے

کوئی تو بات ایسی تھی

کوئی تو بات ایسی تھی جدائی کا سبب ٹھہری جو صدیوں کے سفر سے تھی مگر پلکوں پہ پل بن کر کھٹکتی ہے نفس میں آ کے چبھتی ہے جو دل میں چھید کرتی ہے زمانے پر عیاں سب بھید کرتی ہے کروں جب یاد تو یہ سانس رکتا ہے یہ دل تھم تھم کے چلتا ہے کوئی تو بات ایسی تھی

مزید پڑھیے

ڈائناسور

سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ کمیٹڈ بھی ہوتے ہیں لیکن سنا ہے اب یہ قسم نایاب ہو گئی ہے جیسے ڈائناسور

مزید پڑھیے

محبت خاک کر دے گی

کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی کہیں بھی تم چلے جاؤ کسی کے بھی بنو تم جس کسی کو چاہے اپناؤ ہماری یاد سے پیچھا چھڑانا اس قدر آساں نہیں جاناں کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی

مزید پڑھیے

طمانچہ

مت تہذیب تمدن کی تم ہم سے بات کرو دل کا درد چھلک جائے گا ورنہ آنکھوں سے غیرت کے اس نام پہ اب تک جتنے خون ہوئے ان میں کل اک چار سال کی بچی بھی دیکھی جس نے ہاتھ میں کپڑے کی اک گڑیا تھامی تھی مٹھی میں اک ٹافی تھی جو اس نے کھانی تھی اس کی پلکوں پر حیرت تھی حیرت میں تھا خوف گردن پر خنجر کا ...

مزید پڑھیے

ٹریپ

کل شب فون کیا جب تم نے ہولے ہولے سے یوں بولے جاناں سن لو تم نے آ کر چاہت کا احساس دلا کر میرے دل کو جیت لیا ہے اتنی جلدی واپس کیوں تم لوٹ گئی ہو پلٹ کے ایک نظر بھی نہ دیکھا اس کی جانب آج تلک جو دیکھ رہا ہے راہ تمہاری جس کو سچ مچ مار گئی ہے چاہ تمہاری

مزید پڑھیے

بے درد لمحہ

بہت بے درد لمحہ تھا ہمارے درمیاں آ کر نہیں پل بھر رکا جاناں نہ ہم دونوں سے کچھ پوچھا نہ اس نے کچھ بھی بتلایا فقط چھو کر ہمیں گزرا لہو میں سرسراہٹ سی زباں میں لڑکھڑاہٹ سی عطا کرکے بھلا بیٹھا بہت بے درد لمحہ تھا بہت ہی یاد آتا ہے

مزید پڑھیے

کیا ہوا جو حیات فانی ہے

کیا ہوا جو حیات فانی ہے غم کا لمحہ تو جاودانی ہے زندگانی بحال رکھنے کو سائے پینے ہیں دھوپ کھانی ہے کوئی چومے کہ میری آنکھوں میں جو صحیفہ ہے آسمانی ہے لوگ روئے لپٹ کے سایوں سے قحط انساں کی یہ نشانی ہے حملہ آور بدلتے رہتے ہیں بستی لیکن وہی پرانی ہے دل بھی اپنا نہیں یہاں ...

مزید پڑھیے

جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہو

جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہو پھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہو وہ میرے برابر سے نکل آیہ تھا ورنہ دیوار نہ تھی ایسی کہ جس میں کوئی در ہو میں جسم سے گزرا ہوں یہی سوچ کے اکثر شاید کہ تری روح کا اس راہ میں گھر ہو یہ کیسی تمنا ہے کہ اس دشت میں فیصلؔ دریا ہو کنارہ ہو سفینہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4386 سے 6203