قومی زبان

مقفل چپ

میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھا لوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھے اپنے دکھ درد میں ڈوبی ہوئی ساری باتیں مسئلہ کون سا ایسا تھا جسے حل نہ کیا آج بھی بھیڑ تھی لوگوں کی مرے چاروں طرف میں نے ہر ایک کو باتوں میں سکوں یاب کیا پھر کوئی دور سے دیتا ہے صدا کون ہو تم آئے ہو کون سی ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتی تلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میں گزرتا ہے غبار زیست کی گم نام گلیوں سے دھندلکا سا کوئی ہے یا کوئی بے خواب سی شب ہے کوئی بے نور رستہ ہے کہ جس میں کھو گیا ہوں میں کوئی آواز ہے جو اک دریدہ پیرہن پہنے ہجوم بے سر و پا میں کئی صدیوں سے رہتی ...

مزید پڑھیے

خاموشی کا شور

بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میں اڑ رہے تھے کچھ پرندے لڑکھڑاتی آہٹوں کے کارواں کے ساتھ میں شہر گردی میں رہا گھر کا رستہ یاد آتا ہی نہ تھا کس قدر میں ڈر گیا تھا نیند کی خاموشیوں کے شور سے

مزید پڑھیے

پہچان

کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہے تو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تو ایک رات ملی سوگوار سہمی ہوئی تو ایک خواب ملا در بدر بھٹکتا ہوا اور ایک جسم ملا جس کے سر کے بالوں میں گزرتے وقت نے لمحوں کی راکھ ڈالی ہے وہ جسم میرا نہیں ہے تو پھر وہ کس کا ہے

مزید پڑھیے

کوئی ذی روح نہ تھا

کوئی ذی روح نہ تھا اطراف میں ویرانی تھی وقت بیمار تھا دم توڑ رہا تھا شاید شام کے موڑ پہ کچھ دھوپ پڑی تھی جس میں ایک بے شکل سے سائے کا لرزتا ہوا عکس رینگتے رینگتے اک لمبی صدا کے پیچھے ان گنت شمسی نظاموں کے جہاں سے نکلا آخر کار وہ اس کار گراں سے نکلا

مزید پڑھیے

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں مجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں ہنس پڑتا ہوں جب کوئی حالات کا رونا روتا ہے جیون کو دشوار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں میں واقف ہوں رنگوں کی ...

مزید پڑھیے

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا دل سے جو اک بار میرا ہو گیا تو ہو گیا کیوں ندامت ہو مجھے لا اختیاری فعل پر میں تری نظروں میں رسوا ہو گیا تو ہو گیا کم زیادہ ہو تو سکتا ہے مگر چھٹتا نہیں جس کو جو اک بار نشہ ہو گیا تو ہو گیا دل بہت روتا ہے لیکن اس بت مغرور سے منقطع ہر ایک رشتہ ہو ...

مزید پڑھیے

نظم

رونق مکتب بتاؤ تو ذرا چار حرفی لفظ ہے وہ کون سا سر کو اس کے کاٹ ڈالیں ہم اگر ظلم کے معنی ہے دیتا سربسر تیسرا گر حرف اس کا دیں گرا اس کے معنی ہوں طریقہ قاعدہ مانتے ہیں اس کو سب پیر و جواں زور و طاقت میں ہے وہ اک پہلواں دیکھ لو تم آپ میں نے کہہ دیا چار شعروں کے ہے سر ہی میں چھپا

مزید پڑھیے

بدی کا انجام

بنایا تھا چڑیا نے اک گھونسلہ کہ وہ ایک گھر کے تھا چھت میں بنا ہوئے ایک بار اس کے بچے وہاں کھلاتی غذا لا کے بچوں کو ماں وہ بہر غذا تھی کسی دن گئی پریشاں ہوئی جب وہ واپس ہوئی کہ بچے تو ہیں لیکن آفت یہ تھی کہ بیٹھا ہے بچوں میں اک سانپ بھی پریشان اور مضطرب ہو گئی بہت آہ زاری سے فریاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4383 سے 6203