قومی زبان

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں ہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیں مرے اطراف میں یہ کھینچا تانی کم نہیں ہوتی ادھر پہلو بدلتا ہوں ادھر جالے بدلتے ہیں کسی کو بھی وہ انگارہ دکھائی ہی نہیں دیتا اشارے سے بتاتا ہوں تو اپنے ہاتھ جلتے ہیں میں اپنے جسم سے باہر ہوں یا روحوں کا ...

مزید پڑھیے

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے ہر گام مداری بیٹھے ہیں ہر وقت تماشا ہوتا ہے اب کون یہاں مجذوب نہیں بازار میں کیا موجود نہیں عرفان کی مالا بکتی ہے الہام کا سودا ہوتا ہے اپنی خلوت میں دھیان کہاں خاموشی ہے وجدان کہاں اک آندھی خاک اڑاتی ہے اک آگ کا دریا ہوتا ...

مزید پڑھیے

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں میں تو چپ ہوں اب مری تنہائیاں باتیں کریں اتنی دیواروں میں اک دیوار ہی سمجھا مجھے آ کے میرے سائے میں پرچھائیاں باتیں کریں روکنا بھی ناروا ہے ٹوکنا بھی ناگوار کان تب ہوتے ہیں جب رسوائیاں باتیں کریں خود کلامی کا فسوں تنہائیوں کی گفتگو اس سے ...

مزید پڑھیے

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی بہت دیکھے ہیں یہ نقش قدم بھی یہ ناٹک ہو رہے ہیں مدتوں سے کہاں تک تالیاں پیٹیں گے ہم بھی نئے سجدے نئی ہیں سجدہ گاہیں رکھے جائیں گے بوسیدہ صنم بھی ابھی پردے اٹھیں گے دیکھ لینا نظر آئیں گے پس منظر میں ہم بھی

مزید پڑھیے

تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ (ردیف .. ا)

تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ پر پھڑپھڑا رہا ہے عنقا مری صدا کا سب کیوں دکھا رہے ہیں موہوم سی خراشیں پوچھا تھا صرف میں نے بیمار سے دوا کا دیوانگی نہیں جو چھو چھو کے دیکھتا ہوں آنکھیں ہی اب ملی ہیں اندھا تھا میں سدا کا ہاتھوں کو جانے کب سے بس دھوئے جا رہا ہوں سادہ سے کینوس پر ...

مزید پڑھیے

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں مگر کچھ مکڑیوں کی سرسراہٹ سی ہے کانوں میں زمیں زادوں کو اب مٹی سے تو وابستہ رہنے دو خدارا فصل نو کا ذوق رہنے دو کسانوں میں سروں سے آسماں بھی کیا ہٹایا جانے والا ہے شبیہیں مہر و مہ کی ٹانکتے ہو کیوں مکانوں میں ذرا ٹھہرو اگے گی بھوک بھی ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا تو وحشت میں پلٹ آیا کہیں پر دور اک نقطہ سا روشن تھا اور اس نقطے میں اک ذرہ نظر آیا زمیں کہیے زماں کہیے کہ اپنا آسماں کہیے سبھی کچھ اس میں گم پایا وہی ذرہ کہ جس کی وسعتوں کو بانٹ کر ہم نے کئی خطے بنا ڈالے اور ان خطوں میں ہم نے ...

مزید پڑھیے

وقت کی باڑھ

جھلملوں کی آڑ میں رقصاں درد کی آندھی شور مچا کر پانی کی دیوار اٹھا کر وقت کی سرحد توڑ رہی ہے پانی کی دیوار میں قطرہ قطرہ روزن کھول رہی ہے آنکھیں اپنے ہاتھ بڑھائے روزن کے اس پار کھلی ہیں عکس کی تہ میں عکس کو چھو کر دیکھ رہی ہیں بھیگے چہرے جسموں کی محتاط فصیلوں پر چپکے بے خود ...

مزید پڑھیے

سوختہ جسم کا لباس

لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے بدن مسلسل سلگ رہا ہے کہیں کہیں بھولے بھٹکے شعلے اٹھا کے لو سر کی اب بھی باہر کو جھولتے ہیں جنہیں میں اپنی جلی ہتھیلی کی پشت سے خود دبا رہا ہوں الاؤ سے باہر آ کے دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہوں کہیں سے اب ایمبولنس آئے گی میری جانب کوئی مسیحا نفس ...

مزید پڑھیے

خواب کے آخری حصے میں

جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیں اور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئی گھورتا رہتا ہے ہر وقت خلا میں شاید آئینہ خانوں کی مقہور نما چاہت میں عکس در عکس بکھرتی ہوئی پرچھائیاں ہیں اور سناٹوں کی گمبھیر صدا ہے ہر سو شاخ در شاخ خزاں نوحہ کناں ہے ہر سو ایسے ماحول میں جینا بھی ہے خواب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4382 سے 6203