قومی زبان

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے ایک ...

مزید پڑھیے

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق ابھی دل پر ترے اترا کہاں عشق ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق زمیں سے آسماں تک گل کھلے ہیں تڑپ کر ہو رہے ہیں جسم و جاں عشق یہی تو اعتبار شب کدہ ہے مرا حاصل ہے ...

مزید پڑھیے

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں کیوں ان جلتی آنکھوں میں اب رنگ برنگے خواب نہیں اک مدت سے کس ناطق کی نوک زباں پر اٹکا ہوں میں اک لفظ ہوں گویا وہ بھی معنی سے سیراب نہیں آنکھیں ہیں یا خار مغیلاں چہرہ ہے یا صحرا ہے لفظ بہت نایاب ہیں پیارے درد مگر نایاب نہیں میری بلا ...

مزید پڑھیے

اندیشہ

میں یہی سوچ کے کل رات نہیں سویا اگر نیند پھر آئی تو در خواب کا کھل جائے گا اور کتنے ہی عذابوں کا ستم بار ہجوم صف بہ صف بڑھتا ہوا میری طرف آئے گا

مزید پڑھیے

آخری ملاقات

دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میں دو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیں اس جگہ دھوپ بھی سورج سے ملا کرتی ہے اوڑھ کر شام کی پھولوں بھری چادر اکثر جیسے دو شخص بچھڑنے کے لئے ملتے ہیں

مزید پڑھیے

کئی لمحے

تمہیں معلوم ہے جب بھی پرانے یار گلیوں کی یوں ہی بے سود باتوں میں کئی گھنٹوں کی بے مصرف نشست رائیگاں کو یاد کرتے ہیں تو کتنا لطف آتا ہے پرانے گھر میں گزرے پل اور ان میں سب کہی اور ان کہی باتوں کو جب دہرایا جاتا ہے تو کتنا لطف آتا ہے تمہیں معلوم ہے جب اس طرح کے ان گنت لمحے جنہیں ہم ...

مزید پڑھیے

کیسی افتاد پڑی

دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئے دشت کہسار فلک آب نباتات سبھی بلڈنگیں چھوٹی بڑی دور تلک پھیلے گھر اکا دکا جو کہیں لوگ نظر آتے تھے وہ بھی مشغول تھے بے روح سی سرگرمی میں ہر کوئی نوحہ کناں تھا کہ پرانی صدیاں بوڑھی تہذیب کو دفنا کے ابھی لوٹی ہیں اور اب ڈھونڈھتی ہیں ان دیکھے ...

مزید پڑھیے

روز اس آس پہ

روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوں شاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانب وہ جو دنیا سے بہت دوری پر آگ کے خوف سے سہمے ہوئے اک لمحے میں چھپ کے بچے کی طرح بیٹھا ہے منتظر ہوں کہ کوئی اس کو سہارا دے دے جسے وہ تھام کے ظلمت کا سفر طے کر لے اور مل جائے وہ مجھ سے کہ مرے چہرے پر میری آنکھوں نے سجا ...

مزید پڑھیے

رائیگانی

ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میں نکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پر جہاں پہ خود کو بھی چاہوں تو ڈھونڈ سکتا نہیں سفر حیات کا لگتا ہے رائیگاں ہی گیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4384 سے 6203