قومی زبان

جو دھوپ کی تپتی ہوئی سانسوں سے بچی سوچ

جو دھوپ کی تپتی ہوئی سانسوں سے بچی سوچ پھر چاندنی راتوں میں بڑی دیر جلی سوچ آرام سے اک لمحہ بھی جینا نہیں ممکن ہر وقت مرے ذہن میں رہتی ہے نئی سوچ اس شہر میں آتا ہے نظر ہر کوئی اپنا آواز کسے دوں مجھے رہتی ہے یہی سوچ دکھ درد کا مارا ہی کوئی سمجھے گا ہم کو ہم تک نہ پہنچ پائے گی ...

مزید پڑھیے

مشکل سے چمن میں ہمیں ایک بار ملا پھول

مشکل سے چمن میں ہمیں ایک بار ملا پھول بس ہاتھ لگایا تھا کہ ٹہنی سے جھڑا پھول خوشبو جو نہیں ہے نہ سہی رنگ تو دیکھو بالوں میں سجا لو کوئی کاغذ کا بنا پھول اس شب کو چمک کی نہیں حاجت سے مہک کی آنکھوں سے ستارے نہیں ہونٹوں سے گرا پھول اب تک ترے ہونٹوں پہ تبسم کا گماں ہے ہم کو تو ہے ...

مزید پڑھیے

آئینہ

میں اپنی صورت کو آئینے میں ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں کہاں گئیں کیا ہوا ہے ان کو وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی مہیب سنسان اور ویراں گلاب سے سرخ ہونٹ میرے خجل تھے یاقوت و لعل جن سے جما ہوا ان پہ دیکھتی ہوں بہت سے لوگوں کا خون ناحق یہ میرا پیلا سا زرد چہرہ نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

کسی سے بھی نہیں ہم صبر کی تلقین لیتے ہیں

کسی سے بھی نہیں ہم صبر کی تلقین لیتے ہیں ہمیں ملتی نہیں جو چیز اس کو چھین لیتے ہیں بڑھاپا آ گیا لیکن نہیں بدلا مزاج ان کا ابھی تک کپڑے وہ اپنے لیے رنگین لیتے ہیں فقیروں کو کبھی در سے نہ خالی لوٹنے دینا دعائیں دیتے ہیں خیرات جب مسکین لیتے ہیں وہ سارے لوگ رنج و غم سے پا جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے

بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے ہے میرا طور پرانا تو میرے ٹھینگے سے جو چار پیسے ہیں مٹھی میں بس وہ میرے ہیں ہے تیرے پاس خزانہ تو میرے ٹھینگے سے کبھی لکیر کا بنتا نہیں فقیر وہ شخص اسے نہ مانو سیانا تو میرے ٹھینگے سے مری کہانی حقیقت پہ منحصر ہے مگر تجھے لگے ہے فسانہ تو میرے ...

مزید پڑھیے

کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے

کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے کہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہے میں چپ نہیں ہوں کسی مصلحت کے پیش نظر میں جانتا ہوں کہاں اختلاف کرنا ہے ہمارے جسم سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مگر سمندروں کی تہوں سے ہمیں ابھرنا ہے پھسل رہی ہے جوانی کی ریت مٹھی سے گزر رہے ہیں مرے دن انہیں گزرنا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے

ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے ہم کبھی عزم کے کہسار ہوا کرتے تھے شہر سنسان ہے ان چاند سے چہروں کے بغیر جو دریچوں سے نمودار ہوا کرتے تھے مجھ سے مل کر ہیں عجب عالم حیرانی میں جو مرے فن کے پرستار ہوا کرتے تھے زندگی کس قدر آسان ہوا کرتی تھی لوگ جب صاحب کردار ہوا کرتے تھے اس کی ...

مزید پڑھیے

مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا

مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا تجھے ہی جانے کی عجلت تھی اے مسافر من وگرنہ میں بھی ترے ساتھ چلنے والا تھا جہاں پہ قافلۂ سالار تھک کے بیٹھ گیا وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھا نہیں تھی مجھ کو ضرورت کسی سہارے کی کہ میں تو آپ ہی گر کر ...

مزید پڑھیے

دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے

دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے مرے غم آنسوؤں میں ڈھل رہے تھے کسی نیکی کا سایہ تھا سروں پر جو لمحے آفتوں کے ٹل رہے تھے ہوا احساس یہ آدھی صدی بعد یہاں پر صرف رستے چل رہے تھے وطن کی عظمتوں کو ڈسنے والے وطن کی آستیں میں پل رہے تھے بہت نزدیک تھی منزل ہماری مگر سب راستے دلدل رہے ...

مزید پڑھیے

جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئے

جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئے احساس تب ہوا مرے بچے بڑے ہوئے دشمن کی زد سے اس کو بچا تو لیا مگر سینے میں میرے تیر ہیں اب تک گڑے ہوئے نایاب کس قدر ہیں تمہیں کچھ خبر نہیں ہم مل گئے جو راہ میں تم کو پڑے ہوئے اک عشق کو تو تاج محل سے ملا دوام اک عشق کی مثال وہ کچے گھڑے ہوئے تقدیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4365 سے 6203