قومی زبان

بہادری جو نہیں ہے تو بزدلی بھی نہیں (ردیف .. ی)

بہادری جو نہیں ہے تو بزدلی بھی نہیں بہت ہی چاہا مگر ہم سے خودکشی نہ ہوئی کچھ اس طرح سے خیالوں نے روشنی بخشی تمہاری زلف بھی بکھری تو تیرگی نہ ہوئی کسی کے درد کو تم جانتے بھلا کیوں کر خود اپنے درد سے جب تم کو آگہی نہ ہوئی وہ تیرگی تھی مسلط فضائے عالم پر لہو کے دیپ جلے پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے مانا کہ مرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گرا ہے سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے ہر سمت خموشی ہے مگر کہتے ہیں کچھ لوگ اس شہر میں اک شور قیامت ...

مزید پڑھیے

جو رازدار تھے پہلے وہ دشمن جاں ہیں (ردیف .. ے)

جو رازدار تھے پہلے وہ دشمن جاں ہیں مگر جو دشمن جاں تھے وہ رازدار ہوئے گناہ خود ہی کیا خود کو پھر سزا دے لی ہم اپنے ہاتھوں کئی بار سنگسار ہوئے کبھی فسانہ سنا کر بھی آنکھ نم نہ ہوئی تمہارے ذکر پہ ہی آج اشک بار ہوئے ہر ایک چیز کی اس دور میں صفت بدلی پہاڑ شہر بنے شہر کوہسار ہوئے وہ ...

مزید پڑھیے

تری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں

تری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں کہ اس زمین پہ سنتے ہیں آسمان نہیں مژہ سے بڑھ کے نہیں ہے جو کوئی تیر حسیں تمہارے ابرو سے دل کش کوئی کمان نہیں سسک رہے ہیں جو سڑکوں پہ سینکڑوں انساں تمہارے شہر میں شاید کوئی مکان نہیں یہیں بہشت ہے یارو یہیں ہے دوزخ بھی کہ اس جہان سے آگے کوئی جہان ...

مزید پڑھیے

یہ بزدلی تھی ہماری بہادری نہ ہوئی

یہ بزدلی تھی ہماری بہادری نہ ہوئی ہزار چاہا مگر پھر بھی خود کشی نہ ہوئی کچھ اس طرح سے خیالوں کی روشنی پھیلی تمہاری زلف بھی بکھری تو تیرگی نہ ہوئی یہ بے حسی تھی رگ و پے میں اپنے وصل کی شب حسین پاس رہے ہم سے دل لگی نہ ہوئی وہ تیرگی تھی مسلط فضائے عالم پر لہو کے دیپ جلے پھر بھی ...

مزید پڑھیے

لمحوں کا بھنور چیر کے انسان بنا ہوں

لمحوں کا بھنور چیر کے انسان بنا ہوں احساس ہوں میں وقت کے سینے میں گڑا ہوں کہنے کو تو ہر ملک میں گھوما ہوں پھرا ہوں سوچوں تو جہاں تھا وہیں چپ چاپ کھڑا ہوں فٹ پاتھ پہ عرصے سے پڑا سوچ رہا ہوں پتا تو میں سر سبز تھا کیوں ٹوٹ گرا ہوں اک روز زر و سیم کے انبار بھی تھے ہیچ بکنے پہ جو آیا ...

مزید پڑھیے

وہ پہلے اندھے کنویں میں گرائے جاتے ہیں

وہ پہلے اندھے کنویں میں گرائے جاتے ہیں جو سنگ شیشے کے گھر میں سجائے جاتے ہیں عجیب رسم ہے یارو تمہاری محفل میں دیئے جلانے سے پہلے بجھائے جاتے ہیں ہماری سوچ نے کروٹ یہ کیسی بدلی ہے ہم اپنی آگ میں خود کو جلائے جاتے ہیں بڑا ہی زور ہے اس بار مینہ کے قطروں میں کہ پتھروں پہ بھی گھاؤ ...

مزید پڑھیے

جائیں گے کہاں سر پہ جب آ جائے گا سورج (ردیف .. ن)

جائیں گے کہاں سر پہ جب آ جائے گا سورج وہ لوگ جو دیوار کے سائے میں کھڑے ہیں اللہ یہ لمحہ تو قیامت کی گھڑی ہے انسان سے انسان کے سائے بھی بڑے ہیں ہر موڑ پہ ہیں سر بہ فلک قصر نمایاں ہر موڑ پہ کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں اس درجہ گرانی ہے کہ پتھر نہیں ملتے قبروں پہ صلیبیں نہیں انسان گڑے ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے

کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے بہت دنوں سے لگاتار آنکھ پر نم ہے ہو زرد زرد نہ کیوں شمع کی ضیا یارو کہ اس کو اپنے پگھلنے کا جاں گسل غم ہے غم و الم کا بھی احساس اب نہیں ہوتا شعور و فکر و نظر کا عجیب عالم ہے لہو جلاؤ کچھ اس میں کہ روشنی تو بڑھے چراغ بزم سر شام ہی سے مدھم ہے بچی ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں

ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں خوش بخت ہیں جو گلشن ہستی میں کھلے ہیں اس دھوپ کی شدت سے نہیں کوئی مفر اب دیوار کے سائے میں بڑے لوگ کھڑے ہیں کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ ہر موڑ پر کشکول لئے لوگ کھڑے ہیں اک روز ہمیں ہوں گے اجالے کے پیمبر ہم لوگ کہ مدت سے اندھیرے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4364 سے 6203