صبح
سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول کہے گا اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو نہیں یقین کرو یوں کبھی نہیں ہوتا سویرا اٹھ کے دبے پاؤں خود نہ آئے ...