قومی زبان

عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے

عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے مرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں کہاں کہاں وہ جبین طلب جھکائیں گے عطش عطش کی صدائیں اٹھی سمندر سے تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے چھپا کے رکھ ...

مزید پڑھیے

دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے

دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے یار کہیں برسات غموں کی ہوتی ہے بے چینی میں ڈوبے جبہ اور دستار فاقہ مستی چادر تان کے سوتی ہے پیار محبت رشتے ناطے پیر فقیر دیکھ غریبی کیا کیا دولت کھوتی ہے تیرا چہرہ دن کا دریا پار کرے رات کی ساری ہلچل تجھ سے ہوتی ہے جس کو ماجھی سمجھا اس کی ملاحی ساحل ...

مزید پڑھیے

اک خلش ہے مرے باہر مری دم ساز گری

اک خلش ہے مرے باہر مری دم ساز گری کس بلندی پہ تھی جس دم مری پرواز گری میری دہلیز پہ رکھا ہے کچھ انگاروں سا میرے آنگن میں بھی جھلسی ہوئی آواز گری کسی اعزاز پہ اب سکۂ‌ دل کیا اچھلے اس تواتر سے میاں قیمت اعزاز گری اب بھلا کون کرے چاک گریبان جنوں عظمت زلف گھٹی چشم کنول ناز گری عشق ...

مزید پڑھیے

کب سے بنجر تھی نظر خواب تو آیا

کب سے بنجر تھی نظر خواب تو آیا شکر ہے دشت میں سیلاب تو آیا روشنی لے کے عقیدوں کے کھنڈر میں مکر اوڑھے سہی مہتاب تو آیا کشتیٔ جاں کو یہ تسکین بہت ہے خیریت پوچھنے گرداب تو آیا دولت عشق گنوا کر سہی امجدؔ فہم میں نکتۂ آداب تو آیا

مزید پڑھیے

ابھی آئنہ مضمحل ہے

ابھی کچھ خراشیں ہیں چہرے پہ میرے ابھی وقت کے سخت ناخن کی یادیں ستاتی ہیں مجھ کو ڈراتی ہیں مجھ کو میاں موم خوابوں کی میرے پگھلتی نہ کیسے مری سمت سورج اچھالا گیا تھا میں شعلوں کی دلدل میں دھنسنے لگا تھا مرے دست و پا سب جھلسنے لگے تھے بہت شور مجھ میں اٹھا تھا ہر اک شے سماعت سے ...

مزید پڑھیے

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی سر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہی دانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر اپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی پھر لگی رہنے تصور میں وہ مژگان دراز رگ جاں میں خلش خار تمنا ہے وہی پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ ناز و نیاز جلوۂ حسن وہی ذوق تماشا ہے وہی پھر ہوا ...

مزید پڑھیے

خوشبو

میں کرب میں مبتلا تھی زندگی کی اذیتوں سے دو چار زندگی کے فاصلے اور موت کے قریب میں اپنی رگوں کی قیدی اپنے دکھوں کے حصار میں تھی زندگی سے دور ہوتی رہی تھی کہ میرے جسم میں ایک تناؤ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے جسم کا ایک حصہ بن گیا میری پہچان میرے پیار کی تخلیق میرے خون کا ...

مزید پڑھیے

پرانے جوتے

گردش افلاک کے مارے ہوئے جوتے تمام اک سڑک کے موڑ پر رکھے تھے با صد اہتمام ان پہ ٹوٹے پڑ رہے تھے مفلسان خاص و عام میں نے بھی گردن بڑھا کے پوچھے ان میں اک کے دام بولا مدت بعد ان جوتوں کا اب اٹھا ہے پال اور ان جوتوں میں ہر جوتا ہے آپ اپنی مثال ایک جوتا ان میں تھا جو تجربوں کا ...

مزید پڑھیے

چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میں

چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میں کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں میں اس کی قدر کروں گا جو میرے عیبوں کو مرے ہی منہ پہ کہے آشنا کے لہجے میں زمانہ آج بھی قاصر ہے یہ سمجھنے سے سفر کی بات ہوئی کیوں ہوا کے لہجے میں ہمارے درد کا اندازہ اس کو کیا ہوگا کہ اشک ہوتے نہیں ہیں وفا کے ...

مزید پڑھیے

درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے

درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے شعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئے سنتے آئے ہیں بہت ذکر حسیں خوابوں کا اب کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے ان کے چہرے کو میں اس طرح پڑھا کرتا ہوں جیسے غم کی کوئی تفسیر غزل میں آئے کھیت کھلیان سے جب سانولی صورت لوٹے سرمئی شام کی تنویر غزل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4131 سے 6203