عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے
عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے مرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں کہاں کہاں وہ جبین طلب جھکائیں گے عطش عطش کی صدائیں اٹھی سمندر سے تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے چھپا کے رکھ ...