کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو
کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو دل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں خواب شیریں سے تمنا کو جگا ...