قومی زبان

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو دل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں خواب شیریں سے تمنا کو جگا ...

مزید پڑھیے

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی زندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگی کیا ارادوں سے ہے حاصل؟ طاقت و فرصت کہاں ہائے کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی اے سر شوریدہ اب تیرے وہ سودا کیا ہوئے! کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے ...

مزید پڑھیے

اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے

اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے جان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرے جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے آ چلا اس بت عیار کی باتوں کا یقیں سادگی اپنی قیامت ہے خدا خیر کرے رہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا راہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے

مزید پڑھیے

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے ان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سے میرے درد دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سر الست آپ ہی واقف نہیں ہیں رسم خط راز سے دل گئے ایماں گئے عقلیں گئیں جانیں گئیں تم نے کیا کیا کر دکھایا اک ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے بازار ناز لگتا دل کی خرید ہوتی کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سنتے ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی جلوے دکھاتے جاتے وہ طرز دلبری کے اور دل میں یاں ہوائے ناز مزید ہوتی تیغ ...

مزید پڑھیے

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر رہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو گل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر اشک شادی ہے یہ کچھ مژدہ صبا لائی ہے شبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر ذرۂ وادئ الفت پہ مناسب ہے نگاہ فلک حسن پہ خورشید درخشاں ہو ...

مزید پڑھیے

انسان کی فریاد

ہاں اے مصاف ہستی! مت پوچھ مجھ سے کیا ہوں اک عرصۂ بلا ہوں اک لقمۂ فنا ہوں مجبوریوں نے ڈالا گردن میں میری پھندا خود کردۂ وفا ہوں جاں دادۂ رضا ہوں صیاد حادثے کا کرتا ہے میرا پیچھا مرغ بریدہ پر ہوں صید شکستہ پا ہوں ہے ذات میری مجمع ساری برائیوں کا کہنے کو میں بڑا ہوں لیکن بہت برا ...

مزید پڑھیے

مقصود الفت

کیا مرے حسن دل آویز پہ تو مرتا ہے شعلہ روئی پہ مری جان فدا کرتا ہے یہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر نگہ عشق رخ مہر جہاں تاب پہ ڈال حسن بے مثل کو جس کے نہ اجل ہے نہ زوال کم سنی پر مری مائل ہے طبیعت تیری حسن نوخیز سے وابستہ ہے الفت تیری یہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر تیری الفت ...

مزید پڑھیے

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے (ردیف .. ی)

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے خطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گی جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے اندھی وطن پرستی ہم کو اس رستے لے جائے گی اندھے کنویں میں جھوٹ کی ناؤ تیز چلی تھی مان لیا لیکن باہر روشن دنیا تم ث سچ بلوائے گی نفرت میں جو پلے بڑھے ہیں نفرت ...

مزید پڑھیے

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے

جب میرے وطن کی گلیوں میں ظلمت نے پنکھ پسارے تھے اور رات کے کالے بادل نے ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا جب بستی بستی دہک اٹھی یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا یوں لگتا تھا محشر ہے بپا اور رات کے ظالم سائے سے بچنے کا کوئی یارا بھی نہ تھا صدیوں میں تراشا تھا جس کو انسان کے انتھک ہاتھوں نے تہذیب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4129 سے 6203