ہنسی نصیب نہیں ہے خوشی نصیب نہیں

ہنسی نصیب نہیں ہے خوشی نصیب نہیں
وہ جب سے روٹھ گئے زندگی نصیب نہیں


ہر ایک گل ہے پریشاں ہر اک کلی ہے اداس
بہار میں بھی انہیں تازگی نصیب نہیں


نظر کے سامنے ہے ان کا سنگ در پھر بھی
مری جبیں کو مگر بندگی نصیب نہیں


پلا رہا ہوں ہزاروں کو اپنے ہاتھوں سے
ہوں میکدے میں مگر مے کشی نصیب نہیں


سکون کہتے ہیں کس کو قرار کیا شے ہے
تمہارے بعد مجھے ایک بھی نصیب نہیں


میں چاہتا ہوں شررؔ تجھ کو دیکھ لوں اک بار
نہ جانے کیوں ترا دیدار بھی نصیب نہیں