اک صداقت ہے بے رگ و بے پے
اک صداقت ہے بے رگ و بے پے
تیری مٹھی میں بند ہے جو شے
میرے منہ پر گلال ملتا ہے
بولتا کیوں نہیں لہو کی جے
ناچتا ہے کہ لرزہ بر اندام
کوئی سر تال ہے نہ کوئی لے
ہو سکے تو سمیٹ کر رکھ لے
میرے سائے سے اور اتنا بھیے
کس لئے تیرے میرے بیچ اب تک
دوستی کی خلیج حائل ہے