وہاں ہر آدمی چکرا گیا ہے
وہاں ہر آدمی چکرا گیا ہے
جہاں سے راستہ بل کھا گیا ہے
کوئی اک پل میں غائب ہو چکا ہے
کسی کو دیر تک سوچا گیا ہے
کہیں پر شور آوازوں کا جنگل
کہیں تا دور سناٹا گیا ہے
اب اتنا تو ہواؤں میں نہ پھینکو
کبھی پتھر بھی واپس آ گیا ہے
ہے ذکر اپنی ہی شوریدہ سری کا
کہ آخر آج اسے ہو کیا گیا ہے
برہنہ تھا مری آنکھوں میں کوئی
پڑی اپنی نظر شرما گیا ہے