شرارہ صفت سرد آہوں میں تھا
شرارہ صفت سرد آہوں میں تھا
مرا میں مری اپنی بانہوں میں تھا
ہواؤں سے کیا نشر ہوتا کہ جو
صداؤں کی صورت نگاہوں میں تھا
وہاں سے اڑا آنکھ میں بھر گیا
جہاں گرد میں تیری راہوں میں تھا
کبھی سوچ لینا عبث تو نہیں
مزا درد کا جن کراہوں میں تھا
ترے تھرتھراتے لبوں کے نثار
عجب غل سماعت پناہوں میں تھا
مرے جسم کا ایک حصہ غیورؔ
سدا ہی سے لتھڑا گناہوں میں تھا