جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے
جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے بھڑکے ہوئے شعلوں کا ارماں تو نکل جائے دیوانوں کا کیا مسلک دیوانے تو دیوانے جو دل میں سما جائے جو منہ سے نکل جائے لب تک تو نہ آئے گا راز غم دل لیکن ممکن ہے یہ افسانہ پلکوں سے مچل جائے اس ذوق تجسس کی عظمت کو خدا جانے جو حد تعین سے کچھ آگے نکل ...