قومی زبان

جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے

جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے بھڑکے ہوئے شعلوں کا ارماں تو نکل جائے دیوانوں کا کیا مسلک دیوانے تو دیوانے جو دل میں سما جائے جو منہ سے نکل جائے لب تک تو نہ آئے گا راز غم دل لیکن ممکن ہے یہ افسانہ پلکوں سے مچل جائے اس ذوق تجسس کی عظمت کو خدا جانے جو حد تعین سے کچھ آگے نکل ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ اے نور شمع حسن پروانوں پہ کیا گزری

نہ پوچھ اے نور شمع حسن پروانوں پہ کیا گزری ہوا شعلہ فشاں جو تو تو دیوانوں پہ کیا گزری بتائیں اہل دل دنیا کے ایمانوں پہ کیا گزری مساجد پر پڑیں چوٹیں تو بت خانوں پہ کیا گزری جلانا برق کا تو شغل تھا گر گھر جلا ڈالے وہ کیوں یہ سوچتی دنیا کے خس خانوں پہ کیا گزری بتاؤ تو ذرا انسانیت ...

مزید پڑھیے

کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا

کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا ترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھا بتاؤں کیا گزرتی ہے مرے بچوں کے ذہنوں پر ہوئی مدت تلاش رزق میں گھر ہی نہیں دیکھا میں آئینہ سدا رکھتا ہوں مستقبل کے منظر کا کبھی ماضی کی جانب میں نے مڑ کر ہی نہیں دیکھا نہ ساحل پر نہ کشتی پر کوئی ...

مزید پڑھیے

یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہ

یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہ کرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہ گناہوں کی وبا سے بھی نہیں شرمندہ یہ عالم اتارے گا عذاب اپنے خدا آہستہ آہستہ سبھی زخموں کو اس نے پھر ہمارے کر دیا تازہ چلی ہے آج یوں باد صبا آہستہ آہستہ میں کیسے سکتے میں آخر کھڑا ہوں بیچ رستے میں کوئی دیتا ...

مزید پڑھیے

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں ملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیں ہے چہرے پہ میرے ہر اک حرف کندہ مرے آنسوؤں کی بھی تحریر دیکھیں ہوئے رائیگاں اپنے اعمال سارے نہ لائی اثر کوئی تدبیر دیکھیں اسی کشمکش میں شب و روز گزرے کوئی خواب دیکھیں کہ تعبیر دیکھیں سنا ہے وہاں امن کے گل کھلے ...

مزید پڑھیے

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگا

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگا ہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگا مری ہر شب گزر جاتی ہے اکثر اس تمنا میں کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہوگا بزرگوں کا بھی سایہ اب تو سر سے چھن گیا اپنے کہ یہ بھی حادثہ لکھا مری تقدیر کا ہوگا سبھی اوراق کہنے کو تو ہم نے کر لئے ہیں ...

مزید پڑھیے

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے کہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتے تلاش رزق میں کچھ اس قدر مصروف رہتا ہوں مری بچی یہ کہتی ہے کہ گھر جلدی نہیں آتے نہ غم کا غم ہے مجھ کو اب نہ خوشیوں کی خوشی مجھ کو اب آنکھوں میں بھی اشکوں کے گہر جلدی نہیں آتے ہمیشہ دھند سی کیوں چھائی ...

مزید پڑھیے

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے رہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلے ہمیں تو مطلب ہے روٹیوں سے جو بال بچوں کا پیٹ بھر دے غرض نہیں ہے کوئی بھی ہم کو یہ تخت بدلے کہ تاج بدلے ابھی بھی ذہنوں میں سادگی ہے کہ گاؤں چھوڑے زمانہ بیتا کہ شہر میں بس گئے ہیں لیکن کہاں ...

مزید پڑھیے

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا جو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہرا سنا تھا کانوں سے جو بھی اس نے وہ سب حقیقت ہماری آنکھوں نے جو بھی دیکھا وہ خواب ٹھہرا اکٹھا زر کر لیا ہے اس نے بھی اپنے گھر میں رذیل جتنا تھا اتنا عزت مآب ٹھہرا سنا ہے میں نے وہ شخص بھی بن گیا ہے اچھا ملوں گا ...

مزید پڑھیے

جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا

جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا ہزار باتیں ہوں ایک ہیں پھر بھلا یہ باہم ملال کیسا نہیں ہے اب تاب درد فرقت کہاں کی عزت کہاں کی غیرت ہیں مبتلا اپنے حال میں ہم کسی کا اس دم خیال کیسا بتاؤ مجھ کو یہ کیا ہوا ہے یہ کون سا درد لا دوا ہے یہ کیوں مرا دم الجھ رہا ہے ہے خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4056 سے 6203