ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے
ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے زمیں پہ سایہ ہے اپنے قد کا کہ جادۂ منزل عدم ہے یہی ہے رسم جہان فانی اسی میں کٹتی ہے زندگانی کبھی ہے سامان عیش و راحت کبھی ہجوم غم و الم ہے بتاؤ کیوں چپ ہو منہ سے بولو گہر فشاں ہو دہن تو کھولو عزیز رکھتے ہو جس کو دل سے اسی کے سر کی ...