قومی زبان

ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہم

ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہم کون کہے گا پھر یہ فسانہ بیٹھ بھی جاؤ سن لو کوئی دم وصل کی شیرینی میں پنہاں ہجر کی تلخی بھی ہے کم کم تم سے ملنے کی بھی خوشی ہے تم سے جدا ہونے کا بھی غم حسن و عشق جدا ہوتے ہیں جانے کیا طوفان اٹھے گا حسن کی آنکھیں بھی ہیں پر نم عشق کی ...

مزید پڑھیے

آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے

آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے ایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کئے دل اگر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی جس قدر تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کئے خود فروشانہ ادا تھی میری صورت دیکھنا اپنے ہی جلوے بہ انداز دگر دیکھا کئے ناشناس غم فقط داد ہنر دیتے رہے ہم متاع غم کو رسوائے ہنر ...

مزید پڑھیے

غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کے

غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کے تہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کے وہ نہیں موت سہی موت نہیں نیند سہی کوئی آ جائے شب غم کا مقدر بن کے راہبر تم کو بنایا ہمیں معلوم نہ تھا راہرو راہ بھٹک جاتے ہیں رہبر بن کے اس زیاں خانے میں اک قطرے پہ کیا کیا گزری کبھی آنسو کبھی شبنم کبھی گوہر بن کے موت ...

مزید پڑھیے

اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں

اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں ہم سے مہ و انجم آشنا ہیں دل ڈوبتا جا رہا ہے پیہم لب ہیں کہ تبسم آشنا ہیں ان منزلوں کا سراغ کم ہے جن منزلوں میں گم آشنا ہیں کچھ چارۂ درد آشنائی کس سوچ میں گم سم آشنا ہیں اس دور میں تشنہ کام ساقی ہم جیسے کئی خم آشنا ہیں

مزید پڑھیے

کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے

کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے حدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئے نہیں پیام رہ نامہ و پیام تو ہے ابھی صبا سے کہو ان کے دل کو بہلائے غرور جادہ شناسی بجا سہی لیکن سراغ منزل مقصود بھی کوئی پائے خدا وہ دن نہ دکھائے کہ راہبر یہ کہے چلے تھے جانے کہاں سے کہاں نکل آئے گزر گیا کوئی ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی ہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئی یا خلا پر حکمراں یا خاک کے اندر نہاں زندگی ڈٹ کر عناصر کے مقابل آ گئی بڑھ رہا ہے دم بدم صبح حقیقت کا یقیں ہر نفس پر یہ گماں ہوتا ہے منزل آ گئی ٹوٹتے جاتے ہیں رشتے جوڑتا جاتا ہوں میں ایک مشکل کم ہوئی اور ایک ...

مزید پڑھیے

بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا

بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا فراق میں لطف وصل پایا خزاں میں رنگ بہار دیکھا تمام کاموں کا راستے پر ہمیشہ دار و مدار دیکھا فساد طینت میں جن کی پایا ہر ایک صحبت میں خار دیکھا سنبھالا جس دن سے ہوش ہم نے وطن کو کل چند بار دیکھا نہ کی عزیزوں کی غم گساری نہ پھر کے اپنا دیار ...

مزید پڑھیے

بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی

بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی بنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کی اسیر زلف کیوں کر چھٹ سکیں گے قید وحشت سے کہ ہے ہر جادۂ دشت جنوں زنجیر پتھر کی یہ جلوہ ہے کنشت و دیر میں صانع کی قدرت کا کہ دعوی خدائی کرتی ہے تصویر پتھر کی تلاش رزق میں ہو آسیا کی طرح سرگرداں اگر دانا ...

مزید پڑھیے

کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے

کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے کہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائے عیاں ہو جذب شوق ایسا حسیں آئیں زیارت کو مری تربت کا میلہ مصر کا بازار بن جائے مرے ہنسنے پہ وہ کہتے ہیں ایسا بھی نہ ہو بے خود کہ کوئی آدمی سے قہقہہ دیوار بن جائے تعجب کچھ نہیں ہے گر وفور سوز فرقت ...

مزید پڑھیے

ہم کو کب ہے یہ شکوہ ہم رہے ہیں کب تنہا

ہم کو کب ہے یہ شکوہ ہم رہے ہیں کب تنہا غم بھی ساتھ آئے ہیں ہم چلے ہیں جب تنہا مصلحت پرستوں کی پر فریب محفل میں دیکھیے تو سب یکجا جانچئے تو سب تنہا وہ تھا جب تو جلوے تھے وہ نہیں تو یادیں ہیں ہم رہے نہ جب تنہا اور ہیں نہ اب تنہا دوستوں سے کھنچنے کی وجہ کوئی تو ہوگی ورنہ کون رہتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4055 سے 6203