یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں
یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں خزاں کے گیت بھی اپنی مٹھاس رکھتے ہیں کہیں تو کیا کہیں ہم ان کی سادہ لوحی کو جو قاتلوں سے ترحم کی آس رکھتے ہیں کسی کے سامنے پھیلائیں کس لیے دامن تمہارے درد کی دولت جو پاس رکھتے ہیں انہیں حیات کی تہمت نہ دو عبث یارو جو اپنا جسم نہ اپنا لباس رکھتے ...