قومی زبان

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں

یہ اور بات کہ لہجہ اداس رکھتے ہیں خزاں کے گیت بھی اپنی مٹھاس رکھتے ہیں کہیں تو کیا کہیں ہم ان کی سادہ لوحی کو جو قاتلوں سے ترحم کی آس رکھتے ہیں کسی کے سامنے پھیلائیں کس لیے دامن تمہارے درد کی دولت جو پاس رکھتے ہیں انہیں حیات کی تہمت نہ دو عبث یارو جو اپنا جسم نہ اپنا لباس رکھتے ...

مزید پڑھیے

تیز جب خنجر بیداد کیا جائے گا

تیز جب خنجر بیداد کیا جائے گا ہم غریبوں کا گلا یاد کیا جائے گا غیر کو خوش ہمیں ناشاد کیا جائے گا کب تلک یہ ستم ایجاد کیا جائے گا یہ تو بتلاؤ ہمیں شہر بسانے والو دل کا ویرانہ کب آباد کیا جائے گا اور کیا ہوگا ترے عہد ستم میں اے دوست روز تازہ ستم ایجاد کیا جائے گا یہ جہاں مردہ ...

مزید پڑھیے

یہ حادثہ بھی شہر نگاراں میں ہو گیا

یہ حادثہ بھی شہر نگاراں میں ہو گیا بے چہرگی کی بھیڑ میں ہر چہرہ کھو گیا جس کو سزا ملی تھی کہ جاگے تمام عمر سنتا ہوں آج موت کی بانہوں میں سو گیا حرکت کسی میں ہے نہ حرارت کسی میں ہے کیا شہر تھا جو برف کی چٹان ہو گیا میں اس کو نفرتوں کے سوا کچھ نہ دے سکا وہ چاہتوں کا بیج مرے دل میں بو ...

مزید پڑھیے

انوکھا روپ دھارا ہے نرالا قد نکالا ہے

انوکھا روپ دھارا ہے نرالا قد نکالا ہے ذرا سی شاخ نے کیسا بڑا برگد نکالا ہے خوشامد کرنے والے کے حکومت ہاتھ آئی ہے جو اپنی جان پر کھیلا اسے سرحد نکالا ہے ہزاروں میں کسی اک آدھ کو دنیا عطا کی ہے ہمارے واسطے اس نے یہی فیصد نکالا ہے کہ اس کو سوجھتی رہتی ہے اپنی سی چلانے کی کہیں ...

مزید پڑھیے

تکلفات کے صحرا میں کھو گیا کوئی

تکلفات کے صحرا میں کھو گیا کوئی قریب آ کے بہت دور ہو گیا کوئی سوائے اپنے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا ہماری آنکھ میں سورج سمو گیا کوئی لگائیں باغ پھلوں کے ہوئی نہ یہ توفیق اسے بھی چاٹ گئے ہم جو بو گیا کوئی زمین اوڑھ کے سونا سبھی کو ہے لیکن حفیظؔ وقت سے پہلے ہی سو گیا کوئی

مزید پڑھیے

شوخی ادا غرور شرارت خریدئیے

شوخی ادا غرور شرارت خریدئیے چاندی اچھالیے تو قیامت خریدئیے اسلاف کے نقوش کتابوں میں بند ہیں بازار سے کسی کی شباہت خریدئیے اٹکی ہوئی ہے روح پرانی تراش میں کس دل سے عصر حال کی جدت خریدئیے اہل جہاں کا اور بدلنے لگا مذاق فکر و نظر بھی حسب ضرورت خریدئیے ظاہر بہت حسین ہے باطن ...

مزید پڑھیے

باتوں سے تیری بات کی خوشبو نکل پڑے

باتوں سے تیری بات کی خوشبو نکل پڑے پہچان کا کہیں کوئی پہلو نکل پڑے کم کم کہوں میں شعر سناؤں بہت ہی کم کیا جو کسی غزل سے کبھی تو نکل پڑے بوسہ کہا تھا آپ نے ابرو چڑھا لئے اتنی ذرا سی بات پہ چاقو نکل پڑے اس بار اس نے آپ سے تم کہہ دیا ہمیں ایسی خوشی کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کچھ کرنے کی مہلت کم ہے

کچھ کرنے کی مہلت کم ہے اب عمروں میں برکت کم ہے اکثر باہر ہی رہتا ہوں کیا میرا گھر جنت کم ہے چڑ جاتا ہوں لڑ جاتا ہوں سچ سہنے کی عادت کم ہے ان سے آگے کیسے جاؤں جن سے میری قسمت کم ہے رائی رائی دینے والے مجھ کو پربت پربت کم ہے سادہ سادہ باتیں کیجے اب ذہنوں کو فرصت کم ہے مومنؔ کے ...

مزید پڑھیے

کیسا چکر کاٹ کے آنا پڑتا ہے

کیسا چکر کاٹ کے آنا پڑتا ہے تیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہے پھر اشکوں کی قسمت جاگے یا سوئے پہلے تو آنکھوں میں آنا پڑتا ہے میری مانو مت اس درجہ خواب بنو خوابوں کا محصول چکانا پڑتا ہے خاموشی تو مر جانے کا حاصل ہے زندہ رہنے شور مچانا پڑتا ہے تم بیراگی تم کیا جانو مومنؔ جی الفت میں ...

مزید پڑھیے

ان کے ہونٹوں کا وہ انداز کہیں اف جیسے

ان کے ہونٹوں کا وہ انداز کہیں اف جیسے اور تصویر مصور کا تصوف جیسے اتنے ٹھہراؤ سے وہ بات کیا کرتے ہیں ایک سے دوسرے سجدے میں توقف جیسے اس طرح خود کو زمانے سے بچا رکھا ہے ان کو منظور نہیں خود میں تصرف جیسے یوں ہوا آ کے مرے در سے پلٹ جاتی ہے کچھ بتانے میں ہو ظالم کو تکلف جیسے ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4004 سے 6203