قومی زبان

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی دیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھی کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی گھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بے زار ابھی کاوش پیہم ابھی یہ سلسلہ رکنے نہ پائے جان ...

مزید پڑھیے

بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی

بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال آپ تک پہنچے نہیں شاید مرے اشعار ابھی زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں دل سے کیوں جانے لگی حرص لب و رخسار ابھی ہاں یہ سچ ہے سر بسر کھوئے گئے ہیں عقل و ہوش دل ...

مزید پڑھیے

خلش و سوز دل فگار ہی دی

خلش و سوز دل فگار ہی دی دل میں شمشیر آب دار ہی دی بے وفا سے معاملے کے لیے اک طبیعت وفا شعار ہی دی کیفیت دل کی بیان کرنے کو ایک آواز دل فگار ہی دی خار کو تو زبان گل بخشی گل کو لیکن زبان خار ہی دی دل شب زندہ دار ہم کو دیا حسن کو چشم پر خمار ہی دی خود رقیبوں کے واسطے میں نے زلف معشوق ...

مزید پڑھیے

نیلا آسمان

میری بچی نے مجھ سے کل پوچھا بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دل آویز ہے یہ انداز اتنا پیارا کیوں کیوں ہیں لب پر یہ اتنے سارے سوال ہے تبسم یہ پھول جیسا کیوں میرے دل میں ادھیڑ بن کیا ہے میں ستاروں سے جا کے ...

مزید پڑھیے

واپسی

میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں دور سے گھر نظر آیا روشن ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب پاس پہنچا تو وہ دیکھا جو نگاہوں میں مری گھوم رہا ہے اب تک روشن کمرے کے اندر! اور دہلیز پہ تم! سن کے شاید مری چاپ تم نکل آئی تھیں بجلی کی ...

مزید پڑھیے

تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہے

تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہے میں بار بار اسی راستے گزرا ہوں ہر ایک ذرہ یہاں کا مری نگاہ میں ہے تمہارے گاؤں کے اس راستے کا ایک اک موڑ کھدا ہوا ہے مرے پاؤں کی لکیروں میں ہر ایک موڑ پہ رکتا ہوا میں گزرا ہوں کبھی سنند کی دکاں پہ جا کے کھایا پان کبھی بھرے ہوئے بازار پر نظر ...

مزید پڑھیے

متاع درد کا خوگر مری تلاش میں ہے

متاع درد کا خوگر مری تلاش میں ہے کسی کا بھیجا پیمبر مری تلاش میں ہے ہوں میں ہی نقطۂ آغاز اختتام حصار ہر اک حصار کا محور مری تلاش میں ہے ملی ہے اوج خودی کو یقین محکم سے سنا ہے مرضیٔ داور مری تلاش میں ہے وہ ایک سعی جسے کہتے ہیں ہم سبھی ادراک وہ میرے جسم کے اندر مری تلاش میں ...

مزید پڑھیے

کیوں خفا ہو مرے دلبر یہ بتاؤ مجھ کو

کیوں خفا ہو مرے دلبر یہ بتاؤ مجھ کو ایسے خاموش تو رہ کر نہ ستاؤ مجھ کو سوچ کر بس یہی دن رات تڑپتا ہوں میں وقت آئے وہ گلے پھر سے لگاؤ مجھ کو بے قراری کے سبب چین نہیں ملتا ہے جو بھی احوال ہیں دل کے وہ سناؤ مجھ کو دوریاں کس لیے آئی ہیں ہمارے مابین کچھ تو بولو کہ نہ اب ایسے ستاؤ مجھ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹا ہے بس خوشی کا بھرم اور کچھ نہیں

ٹوٹا ہے بس خوشی کا بھرم اور کچھ نہیں پایا ہے صرف درد و الم اور کچھ نہیں مجھ پر گراں یہ ہجر کی اب کالی رات ہے تنہائیوں میں گھٹتا ہے دم اور کچھ نہیں بے چینیوں کے ساتھ ٹہل کر تمام رات پاؤں میں رہ گئے ہیں ورم اور کچھ نہیں منہ موڑنا وہ دل کا جلانا مرے حبیب ڈھائے گئے ہیں مجھ پہ ستم اور ...

مزید پڑھیے

تمہاری نظریں یوں برق دل پہ گرا رہی ہیں

تمہاری نظریں یوں برق دل پہ گرا رہی ہیں کہ سوئی سوئی سی دھڑکنوں کو جگا رہی ہیں دیا محبت کا میرے سینے میں جل رہا ہے یہ چاہتیں دل سے تیرگی کو مٹا رہی ہیں سنو نہ ایسی نشیلی نظروں سے مجھ کو دیکھو تمہاری نظریں یہ تیر ہم پہ چلا رہی ہیں حقیقتاً اب تو اپنی بانہوں کو دو اجازت کہ یہ تصور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4005 سے 6203