جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں
جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں تری انجمن میں جو آئے ہوئے ہیں غم دو جہاں کو بھلائے ہوئے ہیں کوئی شام کے وقت آئے گا لیکن سحر سے ہم آنکھیں بچھائے ہوئے ہیں جہاں بجلیاں خود اماں ڈھونڈھتی ہیں وہاں ہم نشیمن بنائے ہوئے ہیں غزل آبرو ہے تو اردو زباں ...