قومی زبان

جب بھی گرتا ہوں تھام لیتا ہے

جب بھی گرتا ہوں تھام لیتا ہے یوں بھی وہ انتقام لیتا ہے کیا شکایت ادا ہے یہ اس کی بے نیازی سے کام لیتا ہے ایسا کیا کچھ پلا دیا تو نے جو بھی ہے تیرا نام لیتا ہے چھڑ ہی جاتی ہے داستاں میری جب کوئی تیرا نام لیتا ہے سب کی نظریں بچا کے اے حیرتؔ کوئی تیرا سلام لیتا ہے

مزید پڑھیے

اب ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں

اب ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں دل جلانے سے بھی اب تو روشنی ہوتی نہیں زندگانی اس قدر بے کیف ہے کچھ ان دنوں ان کے آ جانے سے بھی اب تو خوشی ہوتی نہیں تیز ہو جاتی تھی دھڑکن آتے ہی تیرا خیال نام تیرا سن کے بھی اب سنسنی ہوتی نہیں حسن پہ مرتی ہے دنیا جس پہ آتا ہے زوال ہم سے ایسی چند ...

مزید پڑھیے

ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے

ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے ہر گھڑی دل بجھا سا رہتا ہے کتنے جھیلوں عذاب رات اور دن ذہن بھی اب تھکا سا رہتا ہے ذہن زخمی ہے روح بھی زخمی دل میں میلہ لگا سا رہتا ہے کوئی موسم ہو بدلیوں کا راج اب تو سورج چھپا سا رہتا ہے کس طرف جائے یہ سڑک جانے بس یہ کھٹکا لگا سا رہتا ہے چار سو نفرتوں کی ...

مزید پڑھیے

تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے

تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے مرا دل ہے خوب واقف ترا دل برا نہیں ہے غم دوست در حقیقت ترا رہنمائے منزل وہی کم نگاہ نکلا جسے حوصلہ نہیں ہے مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل غم یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے ترا درد زندگی ہے ترا غم مرا مقدر مجھے اور چاہیے کیا مرے گھر میں ...

مزید پڑھیے

ہر بشر کا مقام لکھا ہے

ہر بشر کا مقام لکھا ہے سب کا با ظرف کام لکھا ہے میرے لکھے پہ حق کسی کا نہیں جو لکھا تیرے نام لکھا ہے ہم سے لکھوا رہا ہے کس کا جنوں کون ہے کس کا کام لکھا ہے چیر کر دیکھ لے مرا سینہ اس میں تیرا ہی نام لکھا ہے سوچ کر جب کبھی لکھا میں نے جو بھی لکھا ہے خام لکھا ہے لکھنے والوں کا کیا ...

مزید پڑھیے

تبسم میں نہ ڈھل جاتا گداز غم تو کیا کرتے

تبسم میں نہ ڈھل جاتا گداز غم تو کیا کرتے کہ یہ شعلہ نہ بن جاتا اگر شبنم تو کیا کرتے لٹا دیتے نہ اپنی زندگانی ہم تو کیا کرتے نگاہ لطف کا ہوتا وہی عالم تو کیا کرتے یوں ہی دیر و حرم کی منزلوں میں ٹھوکریں کھاتے سہارا گر نہ دیتی لغزش پیہم تو کیا کرتے حمیدؔ اچھا ہوا خواب طلسم آرزو ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا پھرتا ہے کعبے میں صنم ہے کہ نہیں

ڈھونڈھتا پھرتا ہے کعبے میں صنم ہے کہ نہیں اے دل ناداں تجھے پاس حرم ہے کہ نہیں پھر وہی برق تبسم خرمن دل پر گری آپ ہی کہیے کہ یہ ظلم و ستم ہے کہ نہیں اے مسیحائے زمانہ یہ بتا دیتا مجھے جو جگر میں درد ہے میرے وہ کم ہے کہ نہیں جو خلش بے چین کر دیتی ہے مجھ کو بار بار آپ کے سینے میں بھی ...

مزید پڑھیے

پھول ہیں ہم بہار ہیں ہم لوگ

پھول ہیں ہم بہار ہیں ہم لوگ خوش نما خوش گوار ہیں ہم لوگ شاعر دل فگار ہیں ہم لوگ فطرتاً شعلہ بار ہیں ہم لوگ موند کر آنکھیں کھول دیتے ہیں غافل و ہوشیار ہیں ہم لوگ ہم سے کیا پوچھتے ہو حال دل داستان ہزار ہیں ہم لوگ زینت انجمن اگر ہیں آپ رونق بزم یار ہیں ہم لوگ خوب اچھی طرح سمجھ ...

مزید پڑھیے

جرأت و عزم چاہئے دل میں

جرأت و عزم چاہئے دل میں کوئی مشکل نہیں ہے مشکل میں اس سفینے کا تذکرہ بے سود ہو چکا ہے جو غرق ساحل میں ہائے اس کارواں کی پامالی لٹ گیا جو پہنچ کے منزل میں یہ ہے شان کمال خودداری بے نیازی ہے ان کی محفل میں روغن خون آرزو سے مرے جل رہا ہے چراغ محفل میں پھونک سکتا ہے خرمن ہستی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3984 سے 6203