قومی زبان

درد آخر درد ہے آہ و فغاں ہوگا ضرور

درد آخر درد ہے آہ و فغاں ہوگا ضرور آگ لگتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوگا ضرور میں زمانے سے زمانہ مجھ سے برہم ہے مگر ایک دن اپنا زمین و آسماں ہوگا ضرور لاکھ لہراتی رہیں یہ بجلیاں چاروں طرف عندلیبان چمن کا آشیاں ہوگا ضرور عزم محکم شرط ہے رخت سفر میں راہرو نزد منزل ایک دن یہ کارواں ...

مزید پڑھیے

تماشائے الم ہے اور میں ہوں

تماشائے الم ہے اور میں ہوں خوشی کے ساتھ غم ہے اور میں ہوں زمانے کا ستم ہے اور میں ہوں یہ سب ان کا کرم ہے اور میں ہوں رہ حق پر قدم ہے اور میں ہوں سر افلاک خم ہے اور میں ہوں تموج پر ابھی ہے بحر ہستی سفینہ زیر و بم ہے اور میں ہوں ابھی کیسے کہوں صبح بہاراں ابھی تو شام غم ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

اختیار آپ کو ہے چاہے تو ہر سو رکھیے

اختیار آپ کو ہے چاہے تو ہر سو رکھیے ویسے چہرہ سے ہٹائے ہوئے گیسو رکھیے درد میں ڈوبا ہوا دل یہ بہر سو رکھیے مثل سیماب مچلتا ہوا پہلو رکھیے عہد ماضی کی تمنائیں لئے اب دل میں اپنے اسلاف کے اوصاف کی خو بو رکھیے لوگ تکفین کی تیاری کئے بیٹھے ہیں آپ سینے سے لگائے ہوئے اردو رکھیے شان ...

مزید پڑھیے

رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میں

رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میں جلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میں کیا لطف ہو گر عیش کے سامان بہم ہوں معشوق بھی ہو شوخ طرحدار بغل میں ہر وقت جو آغوش میں رہتا تھا ہماری اب اوس کو لیے پھرتے ہیں اغیار بغل میں کس طرح میں سمجھوں کہ وہ کرتے ہیں محبت آتے نہیں بھولے سے بھی اک بار بغل ...

مزید پڑھیے

کسی کے عہد کا دل رازدار آج بھی ہے

کسی کے عہد کا دل رازدار آج بھی ہے نہ آئیں گے وہ مگر انتظار آج بھی ہے ہوئی ہیں مدتیں بچھڑے ہوئے مگر ہم دم ترے لیے مرا دل بے قرار آج بھی ہے پلائی تھی جو کبھی تو نے مست آنکھوں سے سرور اس کا اسی کا خمار آج بھی ہے جگر کے زخموں کو اشکوں سے ہم نے سینچا ہے چلے بھی آؤ کے فصل بہار آج بھی ...

مزید پڑھیے

جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے

جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے عجیب ...

مزید پڑھیے

یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے

یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے زندگی شیشے کی ہے اور آدمی پتھر کا ہے دوستو اس دور کی سب سے بڑی خوبی ہے یہ آدمی پتھر کا دل پتھر گھر پتھر کا ہے ہے وہ کتنا خوب صورت ہر ادا بھی دل نشیں اس کی باتیں میٹھی میٹھی پر اثر نشتر کا ہے ایک مدت ہو گئی آئی نہ منزل آج تک یہ کرشمہ بھی مرے ...

مزید پڑھیے

آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں

آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں درد جب حد سے گزر جاتا ہے رو لیتا ہوں میں جب ستاتی ہے کسی کی یاد تنہائی کے وقت آنسوؤں کے ہار پلکوں سے پرو لیتا ہوں میں شدت احساس غم سے جب بھی گھبراتا ہے دل آنسوؤں میں اپنی آہوں کو ڈبو لیتا ہوں میں درد الفت درد دنیا اور یہ ننھا سا دل ایک ...

مزید پڑھیے

دل دکھانا تمہاری فطرت ہے

دل دکھانا تمہاری فطرت ہے چوٹ کھانا ہماری عادت ہے مجھ کو یوں ہی خراب ہونا تھا بے سبب تم کو کیوں ندامت ہے جھانک کر ایک بار آنکھوں میں خود ہی پڑھ لو جو دل کی حالت ہے راہ الفت میں جان دے دینا اس سے بڑھ کر کوئی شہادت ہے تیری فرقت ہو یا تری قربت ایک دوزخ ہے ایک جنت ہے تم نے دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

زیست کے بھید کھولتا ہے کون

زیست کے بھید کھولتا ہے کون میرے اندر یہ بولتا ہے کون میرے شعروں میں میرے لفظوں کو موتیوں سا یہ رولتا ہے کون میرے شعروں میں میری غزلوں میں اپنے اسرار کھولتا ہے کون تلخ لمحوں میں لب سے شیرینی میرے کانوں میں گھولتا ہے کون چھین لی کس نے میری تنہائی میری راتوں میں ڈولتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3985 سے 6203