درد آخر درد ہے آہ و فغاں ہوگا ضرور
درد آخر درد ہے آہ و فغاں ہوگا ضرور آگ لگتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوگا ضرور میں زمانے سے زمانہ مجھ سے برہم ہے مگر ایک دن اپنا زمین و آسماں ہوگا ضرور لاکھ لہراتی رہیں یہ بجلیاں چاروں طرف عندلیبان چمن کا آشیاں ہوگا ضرور عزم محکم شرط ہے رخت سفر میں راہرو نزد منزل ایک دن یہ کارواں ...